گلگت بلتستان کے مایہ ناز دانشور نقاد مفکر واستاد شاعر جناب جمشید خان دکھی 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
کر گئے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : بیورو رپورٹ : -جمشید
دکھی کی شاعری کو مزاحمتی ادب کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے، جس میں شمالی علاقہ
جات کے مسائل اور اربابِ اختیار کی بےحسی کو موضوع بنایا گیا۔ دکھی مادری زبان شناء اور اردو میں
بھی شاعری کرتے تھے، جس کا ایک نمونہ اس شعر کی شکل میں حاضر ہے، جس سے ان کی
افتادِ طبع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: (بی بی سی ڈاٹ کام سے منتخب)
نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں
وہ حاکم کس طرح آئین دیں گے
گلگت بلتستان کے حیبب جالب جمشید خان
دکھی 15 جون 1956 کو شہر گلگت کے خوب صورت مقام کشروٹ میں پیدا ہوئے۔ ہائی اسکول
نمبر1 گلگت کی تاریخی درسگاہ سے آپ نے 1972 میں میڑک کا امتحان پاس کیا اس کے بعد
محکمہ جنگلات میں ملازمت اختیار کی۔ دوران ملازمت اپنے علمی شوق کی تشفی کےلیے
پرائیویٹ امتحانات دیے۔ اسی طرح آپ تعلیمی لحاظ سے گریجویٹ تھے۔
دکھی گلگت کی تنگ وادی میں رہتے ہوئے
بھی تنگ نظری کو قریب پھٹکنےنہیں دیا۔
آپ گلگت کے فعال و معروف ادبی تنظیم
حلقہ ارباب زوق کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔
Labels: About Jamsheed Duhki, Duhki Poet from Gilgit Baltistan, RIP, Shina Poet

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home