Sunday, February 20, 2022

ناصر آباد کے مابل اور لیز کو کسی مائی کے لال کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے


ہنزہ : پھسو ٹائمز اُردُو : نمائندہ خصوصی :- عمائدین ناصر آباد نے کہا ہے کہ ناصر آباد (ہنی قدیمی نام)نے کہا ہے کہ صدیوں سے ہم اس گاوں میں آباد ہیں،ہمارے اجداد نے اس زمین اور علاقہ کی دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں اور اب ہم کسی بنیاد پر کسی اور کو مفت میں یہ وسائل قربان کریں گے۔ہمارے پاس 1989تھول داس سے ہکاچر تک 640ایکڑپر مشتمل لیز قانونی اور تمام تر کاغذی کارروائی اور ڈاکومنٹیشن کے بعد ہمارے نام یعنی الناصر سوسائٹی کے نام ہے جس پر محکمہ معدنیات کے چند افیسران غیر مقامی سرمایہ داروں سے ملی بھگت کرکے ہمارے لیز پر اور لیپ کیا ہوا ہے۔جبکہ ہم نے 1989سے 2004تک اس لیز پر باقائدہ کام بھی ہے اور ایک نجی کمپنی اور گلگت میں بیٹھے ہوئے معدنیات کے آفیسران کی نجی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ہمارے نکالے گئے ماربل کو مارکیٹ تک پہنچانے نہیں دیا جارہا ہے۔ صدر الناصر سوسائٹی نعمت شاہ،اعلیٰ نمبردار اسلام،نمبر دار نسیم اللہ،مبارک شاہ،شیر بازاور نمبر اکبر حسین و دیگر عمائدین ناصر آباد شناکی نے  اتوار کے روز مابل لیز کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات اور حکومتی و دیگر اداروں کی بدنیتی اور غیر قانونی اقدامات کے باعث ناصر آباد کے عوام مالی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، ہمارا ساری ساری جمع پونجی ماربل مائن تک سڑک بنانے اور مشنری وغیرہ لانے پر سرف ہوئی ہے اور ہم نے تین مختلف مقامات سے مائن تک سڑکیں بنائی ہیں جس پر کمپنسیشن سمیت 22کروڈ سے زیادہ کے اخراجات ہوئے ہیں۔ سرکار اور محکمہ معدنیات کی جانب سے اس پر ایک پیسہ تک خرچ نہیں ہوا ہے جو بھی کیا ہے عوام نے الناصر سوسائٹی کے ذریعے یہ سب کیا ہوا ہے ۔نمبردار اعجاج عالم نے کہا کہ گلگت بلتستان کسی کی باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ہمارے اباو اجداد کی جاگیر ہے، ہماری کئی نسلیں یہاں مدفون ہوئے ہیں، میں گلگت بلتستان کی حکومت اور پاکستانی ریاست سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخون لے لیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہاں تصادم کی طرف لے کر جائے،اگر ہماری ایک بھی جان بھی زندہ بچے گی تو ان وسائل پر قبضہ کبھی ہونے نہیں دے گی۔ہم اس ناصر آباد کے مابل اور لیز کو کسی مائی کے لال کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے، میں مہمند دادااور ان کے ذمہ داروں کو وارن کرنا چاہتا ہوں کہ ان وسائل کے بنیاد پر فرقہ وارانہ کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کریں اس کے نتائج انتہائی بیانک نکلیں گے۔ہم گلگت بلتستان کے عوام کو اپیل کرتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کے بھائی ایک ہیں،اس لئے اس غیرقانونی عمل کو روکنے کیلئے ہمارے ساتھ بھائی بن کر کھڑے ہوجائیں کیوں کہ یہ آج ناصر آباد کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے تو کل یہ مسائل دیگر بہت سے علاقوں کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home