رواں مالی سال کے آخر تک تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے , وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید
گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز :- وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ہیلتھ سٹیئرنگ کمیٹی میں کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجحی صحت کا شعبہ ہے ۔ صحت کے شعبے کی بہتری ،ڈاکٹروں کی سپیشلا ئزیشن اور ڈاکٹروں کو بہتر پیکیج دینے کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے بڑے ہسپتالوں میں ہاءوس جاب اور پوسٹ گریجویٹ شروع کرنے کےلئے سی پی ایس پی سے ایک ہفتے میں ایم او یو کیا جائے گا ۔ سی پی ایس پی کے چیک لسٹ کے مطابق ہاءوس جاب شروع کرنے کےلئے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ مخصوص شعبوں میں درکار ایف سی پی ایس مکمل کرنے والے ڈاکٹرز کو گریڈ 18 میں ملازمت یقینی بنانے اور بہتر سہولیات کےلئے پالیسی تیار کرکے منظوری کےلئے کابینہ اجلاس میں پیش کریں ۔ صحت کے شعبے کی بہتری کےلئے ضروری قانون سازی کی گئی اور وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ رواں مالی سال کے آخر تک تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے ۔ ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے بعد گلگت، سکردو اور چلاس کے بڑے ہسپتالوں میں نیرو سمیت جدید علاج کی سہولیات یقینی بنائیں گے تاکہ گلگت بلتستان سے مریضوں کو علاج و معالجے کےلئے دیگر صوبوں میں جانے کی ضرورت نہ ہو ۔ صحت سہولت کارڈ تحریک انصاف کی حکومت کا انقلابی اقدام ہے ۔ صحت سہولت کارڈ کے ذریعے ہسپتالوں کے وسائل میں اضافہ ہوگا اور مالی طور پر مستحکم ہوں گے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں صوبے کے ہسپتالوں میں مریضوں کےلئے ایمرجنسی اور او پی ڈی مکمل فری کی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں کے آٹومیشن کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ سیکریٹری صحت اور سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے 6ماہ کے مدت میں ہسپتالوں کی آٹومیشن کے عمل کو مکمل کریں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات کی سپلائی کے عمل کو تیز کریں ۔ آئندہ مالی سال کےلئے ادویات کی خریداری بروقت یقینی بنانے کےلئے جون سے قبل کاغذی کارروائی کو حتمی شکل دی جائے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں سٹاف کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنانے کےلئے تمام ہسپتالوں میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام نصب کیا جائے ۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنانے کےلئے سیکریٹری صحت 20 اپریل 2022تک سی ٹی ایس پی کے تحت ٹیکنیکل سٹاف کی بھرتیوں کے عمل کو مکمل کریں ۔
اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی دلچسپی کی وجہ سے 1354آسامیاں صحت کے شعبے کےلئے تخلیق کی گئی ہے جن میں نیرو سرجن کی 4، ;80;eadiatric ;83;urgeonکی 4، ;80;sychiatristکی 11، کریٹیکل کریئر سپیشلسٹ کی 11، ;78;ephrologistکی 7، ;85;rologistکی 4، میڈیکل آفیسرز کی 120، ڈینٹل آفیسرزکی 11، کلینیکل سائیکولجسٹ کی 10، پیتھیالوجسٹ کی 10، جنرل نرسز کی 201، لیڈی ہیلتھ وزٹرز کی 50، آئی سی یو ٹیکنیشن کی 20، سرجیکل ٹیکنیشن کی 11، میڈیکل ٹیکنیشن کی 11، الیکٹرو میڈیکل ٹیکنیشن کی 10 اور آیا کی 25آسامیوں کی ریگولر سائیڈ پر کیریشن دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ پی سی فورزڈویلپمنٹ اور پروگرام کے تحت 832مختلف آسامیوں کی تخلیق (کیریشن)دی گئی ہے جس سے ڈاکٹروں ، جنرل سٹاف اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف کی کمی دور ہوگی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنایا جاسکے گا ۔ صوبائی حکومت نے صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کےلئے ڈاکٹروں کو خصوصی مراعات دیئے ہیں ۔ ایس پی ایس کے تحت سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تنخواہیں 3لاکھ50 ہزار کردی گئی ہے جبکہ ٹریننگ مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ 3 لاکھ کردی گئی ہے ۔ صوبے میں خدمات انجام دینے والے ریگولر ڈاکٹروں کی بھی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت نے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کےلئے خصوصی اصلاحات کئے ہیں جس کے تحت 28کنٹریکٹ ڈاکٹرز ، 61 ریگولر ڈاکٹرز اور 76پرائیویٹ ڈاکٹرز کو ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس (;65;nesthesia) کےلئے ملک کے بڑے ہسپتالوں میں بھجوایا گیا ہے جن کے تمام اخراجات صوبائی حکومت ادا کررہی ہے ۔ گلگت، چلاس اور سکردو میں ٹراما سنٹرز تعمیر کئے گئے ہیں ۔ صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جارہاہے ۔

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home