Monday, January 31, 2022

Labor rights violations in Sedna school Aliabad Hunza | PASSUTIMES

By Imran khan Hunzai 

No doubt, State is responsible for giving employment to it's citizens but unfortunately due to economic challenges and financial crisis state is unable to provide employment opportunities to citizens. By taking advantage of this, Private institutions such a Sedna school Aliabad Hunza has been continously violating labor rights. I came to know when a helpless lady shared her story with me personally, who has  has been working on only six thousand salary in this institution. But on  the other hands this educational institution  has been charging high fee's on poor students without giving any relaxation in their fee's. So far, nobody has raised raise their voices against such mafia due to their domestic compulsions. The elected political leadership must take notices of such injustices with poor and needy people. All legal platforms and labor rights organizations must raise their voices to protect women's rights. But because of lack of check and balance over labor rights women's in Hunza have been forced to work on very low wages but unfortunately, our state institutions has been showing their negligence in this regard. While other thousands of women's workers across Gilgit Baltistan  are working on very low wages just to meet their requirements. It's the prime responsibility of state institutions to ensure women's rights across Pakistan. I requested to Chief minister of Gilgit Baltistan to take immediate notice of such a injustices with woman's and provide adequate wages to these women's.


Social and political activist 

Imran khan Hunzai

Thursday, January 6, 2022

ضلع اپر اور لویر چترال کے محتلف علاقوں میں برف باری، سردی کی شدت میں اضافہ۔ جلانےکی لکڑی کی قلعت

 چترال : پھسو ٹائمز اُردُو : گل حماد فاروق


ضلع اپر اور لویر چترال کے محتلف علاقوں میں برف باری، سردی کی شدت میں اضافہ۔ جلانےکی لکڑی کی قلعت۔
چترال کے دونوں اضلاع میں مسلسل بارشوں کے بعد برف باری شروع ہوی ہے برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے تاحال جاری ضلع لوئر چترال کے محتلف علاقوں میں برف باری ہوی ہے جن میں سر فہرست وادی شیشی کوہ ، وادی کیلاش رمبور، بمبوریت، بریر ، گرم چشمہ ، سینگور، شاہ میراندہ، بلچ جبکہ ضلع اپر چترال کے علاقے تورکو میں کھوت ، تریچ ، سور لاسپور اور ملکوہ کے محتلف علاقوں میں بھی آٹھ انچ سے بارہ انچ تک برف باری ہوی ہے ۔ طویل خشک سالی کے بعد کافی عرصے بعد بارش ہوی ہے جبکہ حالیہ برف باری میں چترال کا کوئی بھی علاقہ محروم نہیں رہا ۔
چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ لواری سرنگ کا راستہ بھی شدید برف باری کے بعد ہر قسم ٹریفک کیلے بند ہوا تھا تاہم نیشنل ہای وے اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے اسے ہلکے ٹریفک کیلیے کھول دیا تھا مگر شدید برف باری کے باعث ایک بار پھر ٹریفک کے نظام میں حلل پڑا ہوا ہے۔
لواری ٹنل پربرف ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے ضلع انتظآمیہ لوہے کی زنجیر یعنی چین کے بغیر کسی گاڑی کو نہیں چھوڑتی اور صرف فور ویل گاڑیاں دشواریوں کے باوجود سفر کر رہے ہیں ۔ چترال انتظامیہ کی طرف سے بغیر چین گاڑیوں کو سفر کی اجازت نہیں دے رہے ۔ کئی گاڑیاں برف میں پھسل کر پھنس گئےہیں ۔ جس سے مسافروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ متعدد مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹر حضرات برف باری کے باعث مسافروں کی مجبوری سے غلط فایدہ اٹھاتے ہویے زیادہ کرایہ وصل کرتے ہیں اور اکثر گاڑی والے فی مسافر سے چین لگانے کی بہانے تین سو روپے زیادہ کرایہ وصول کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ مسافروں نے شکایت کیا کہ ٹرانسپورٹرز حضرات کافی عرصے سے اس قسم کے موسمی حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا انتظار میں تھے اب چونکہ برف باری ہوی ہے تو انہوں نے بھی عوام کو لوٹنا شروع کیا ہے ۔ جبکہ پہلے سے ہی مہنگائی کی آڑ میں پچاس سے سو فیصد کرایے اپنی مرضی سے بڑھائے ہوئے تھے۔ چترال کے کئی وادیوں کی سڑکیں برف کی وجہ سے بند ہیں ۔ جس کی وجہ سے ضلع ہیڈ کوارٹر اپر چترال بونی اور ضلعی ہیڈ کوارٹر لوئر چترال کی طرف آنے والوں کی تعداد بہت کم رہی ۔ روزانہ کی بنیاد پر شہر آنے والے ملازمین کی تعداد بہت کم رہی ۔ برفباری سے پہلے چترال اور کالاش ویلیز میں آنے والے سیاح برفباری کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔ اور مقامی طور پر کھیلا جانےوالا گیم مچئے( کیریک گاڑ) میں انتہائی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ چترال میں گذشتہ سال سے ونٹرٹورزم میں لوگ دلچسپی لینے لگے ہیں ۔ لیکن وہ ایڈ ونچرسٹ نوجوان ٹورسٹ ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کالاش وادی کی سڑکوں میں بہتری لانے پر توجہ دے ۔ تو سرمائی سیاحت کی غرض سے سہولت پسند سیاحوں کی بڑی تعداد چترال آسکتی ہے ۔ برفباری سے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ یہ نہ صرف سردی کے موسم کا حسن ہے بلکہ زندگی کو روان رکھنے کیلئے یہی برف اور گلیشئرز ہمارا سرمایہ ہیں۔ چترال کے کئی علاقے جن میں سینگور ، اورغوچ ، خیر آباد ، اوسیک ، دروش موڑکہو ،وریجون وغیرہ علاقے امسال خشک سالی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ حالیہ برفباری سے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ برفباری کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی ہے۔ کہ چترال کے بجلی گھروں کو حالیہ وقت پانی کی جس شدید قلت کا سامنا ہے ۔ اس میں بہتری آجائے گی ۔ اور لوڈشیڈنگ میں کچھ کمی آجائےگی ۔ لیکن موجودہ برفباری چترال اور پاکستان کے آبی ضرورتوں کیلئے کافی نہیں ہے۔
عوام کی طرف سے شکایت موصول ہورہی ہے کہ برف باری اگرچہ اللہ کی رحمت ہے مگر بعض لالچی عناصر اسے زحمت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بازار میں جلانے کی لکڑی کی قیمت سات سو روپے فی من سے پرواز کرگیا جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی سے بھی مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی ناقص پالیسی اور کمزوری کی وجہ سے عوام کو انٹرنیٹ کی سہولت میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ دوسری طرف بازار سے اہستہ اہستہ گیس سلنڈر بھی غایب ہونے کا حطرہ ہے۔