Friday, March 25, 2022

23 مارچ کو ہائیر سکینڈری سکول جگلوٹ میں یوم پاکستان کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی

 


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو :    نمائندہ خصوصی  :- 23 مارچ کو ہائیر سکینڈری سکول جگلوٹ میں یوم پاکستان کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی ۔ تقریب کا مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر جگلوٹ جناب عنایت اللہ تھے ۔ تقریب میں طلباء اساتذہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے نمایاں نے شرکت کی طلبہ نے ملی نغمے ۔ شینا گیت اور یوم پاکستان کے حوالے سے تقاریر کی ۔ دیگر شخصیات نے بھی قرارداد پاکستان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ ۔ اسسٹنٹ کمشنر جگلوٹ نے طلبہ اور دیگر شرکاء سے خطاب میں کہا کہ 23 مارچ کا دن ہماری قومی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس دن آج سے 82 سال قبل مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر علحیدہ مملکت کے قیام کا مقبول ومعروف مطالبہ کیا ۔ یہی وہ مطالبہ تھا جس پر بر صغیر کے تمام مسلمان اکھٹے ہوئے اور قائدین کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے جہدوجہد آذادی کےسفر پر گامزن ہوئے اور اس جوش اور ولولے سے جدوجہدکی کہ صدیوں پر مشتمل کٹھن سفر کوسات سال کے مختصر عرصے میں طے کرلیا اور آذاد مملکت کو حاصل کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ آج کا دن ہ میں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم جس بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں اور جس مقام پر بھی ہوں ہ میں چاہیے کہ اس مملکت خداداد کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کریں ۔ اسسٹنٹ کمشنر جگلوٹ نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی قوم کے معمار ہیں اور آپ نے ہی کل اس ملک کی بھاگ ڈور کو سنبھالنا ہے اس لیے اپنے آپ کو جدید علوم سے مسلح کرکے آگے بڑھیں اور اپنی استعداد کو اس قابل بنائیں کہ ملک کی بہترین خدمت میں استعمال ہو سکے ۔

Thursday, March 24, 2022

جمشید خان دکھی;207;،ایک عہد ساز شخصیت | تہذیب حسین برچہ | پھسو ٹائمز اُردُو


 جمشید خان دکھی;207;،ایک عہد ساز شخصیت    : تہذیب حسین برچہ

زندگی کیا ہے اورموت کیا شے ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;238;حضرتِ انسان اس قضیہ کی گتھی سلجھانے میں روز اول سے سرگرداں ہے مگر کچھ ہاتھ نہیں آیا ۔ بابا بلھے شاہ نے;3939;بلھا کیہ جاناں میں کون ;3939;کہا تو کبھی واصف علی واصف نے زندگی کوایک راز قرار دیا جو اپنے جاننے والوں کو بھی راز بنا دیتا ہے ۔ ٹی ایس ایلٹ نے زندگی کو ایک مسلسل تحریک کا نام دیا تو شیکسپیئر نے اسے ایک احمق کی سنائی ہوئی کہانی کی مانند قرار دیا ۔ شوپنہار نے زندگی کو انسانی تکلیف کی کیفیت کہا تو دوستو فسکی نے اسے جہنم سے مماثل قرار دیا ۔ ڈینش فلسفی سورین کرکیگارڈ نے اسے ایک ایسی حقیقت سے مشابہ کہا جسے محسوس کرنا اور برتنا ہے تو کارل مارکس کے مطابق زندگی اپنے آپ میں ایک مقصد ہے ۔ کرہ ارض پر ہر ایک انسان کی زندگی کے شب و روز گزارنے کا اپنا ڈھنگ اورطور طریقہ ہے مگر جن انسانوں کے وجود کو محبت کا حَسین جھونکا چھو کر گزرتا ہے وہ سر سے پا تک محبت، شفقت اور اخلاص کا مرقع ہوتے ہیں اور ان کا وجود دنیا کے دوسرے انسانوں کے لیے سدا خیر کا باعث بنتا ہے ۔
پیار دل میں بسا لے اے انسان

کیونکہ تیرا مقام افضل ہے

نیکیوں کے تمام کاموں سے

فرد کا احترام افضل ہے

جمشید خان دکھی;207;،نوکِ قلم سے کاغذ پر یہ نام لکھتے یالبوں سے ادا کرتے ہوئے ذہن کے کسی گوشے میں یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں ۔ وہ شخص کیا تھا سراپا محبت کا استعارہ تھا ۔ غالباَ2011ء کی بات ہے کہ حلقہ اربابِ ذوق کے تحت ہونے والے مشاعروں میں باقائدگی سے میری شرکت کے بعد اس عظیم شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور جانے کا موقع ملا ۔ گو کہ کئی دہائیوں پر محیط میرے بزرگوں کے ساتھ قائم گھریلو تعلق کے سبب ان کی شخصیت اور نام سے بچپن سے ہی آشنا تھا اور ان کا شمار بھی میرے بزرگوں کی پیڑھی میں ہوتا تھا اسی سبب حلقہ اربابِ ذوق میں شمولیت کے بعد بھی میں اکثر دکھی صاحب سے زیادہ گھُل ملنے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس کرتا کہ کہیں احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے مگر دکھی صاحب کی وسیع القلبی،بڑا پن اور ذرہ نوازی تھی کہ انہوں نے ہمیشہ میرے ساتھ ایک بہترین دوست کی طرح برتاؤ کیا،ایک مخلص بزرگ کی طرح ہمیشہ بوقتِ ضروت وعظ و نصیحت کی اور ایک بہترین استاد کی طرح ادب کے میدان میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ۔ 2015ء میں حلقہ اربابِ ذوق کا اسلام آباد اور لاہور کا مطالعاتی دورہ ہو یا سکردو میں ;3939;یومِ حسین;3939; میں شرکت کے لیے احباب کے سالانہ سفر،ضلع غذر کی یاتراہو یا ضلع نگر اور گلگت کے مضافاتی علاقوں میں مشاعروں میں شرکت کی غرض سے کیے گئے سفر ۔ دکھی صاحب ہمیشہ ایک زندہ دل اور ہمہ جہت راہبر کا فریضہ انجام دیتے تھے اور گلگت بلتستان میں ادب کی آبیاری کے لیے اپنی ایک عمر خرچ کی ۔ غمِ روزگار کے سلسلے میں 2019 ء میں میرے اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد اکثر فون پر رابطہ رہتا اور فوتگی سے ایک ہفتے قبل بھی شدید علیل ہونے کے باوجودمیری کال اٹینڈ کی اور بات چیت کی اور دریافت کیا کہ گلگت آئے تو نہیں ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;238; مگر خدا کو کچھ اور منظور تھا اور دکھی صاحب گلگت بلتستان خصوصا حلقہ اربابِ ذوق گلگت کی ادبی محافل کو ویران کرکے داغِ مفارقت دے گئے ۔

کسی بھی حساس فرد کا اپنے اردگرد کے معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونا اور سماج میں موجود نا ہمواریوں سے اثر لینا ایک انہونی بات ہے ۔ دکھی جیسا حساس طبیعت کا مالک اور دردِ دل رکھنے والا انسان گلگت بلتستان کی محرومیوں اور مختلف قسم کے تعصبات کی شکار قوم کی حالتِ زار پر بھلا کیسے خاموش رہ سکتا تھا سو انہوں نے اپنی شاعری اور مضامین میں کسی بھی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر کھُل کر لکھا اور مقتدر طبقہ کو گلگت بلتستان کی محرومیوں کی جانب توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی تو کبھی گلگت بلتستان کی عوام کو تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھ ایک قوم بن کر محبت اور امن و امان کے ساتھ ایک دوسرے کے دکھ درد کا مداوا کرکے ایک مہذب قوم بن کر علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہنے کا پیغام دیا اور آخری سانس تک امن و آشتی اور باہمی محبت وحترام سے مزین گلگت بلتستان کے عوام کی بہتری و خوشحالی اور درخشندہ مستقبل کا خواب دیکھتے رہے ۔

مری دھرتی تو میری آبرو ہے

تری تصویر پہم روبرو ہے

شبِ ظلمت کا ہوگا کب سویرا

اندھیرا ہی اندھیرا چارسو ہے

ایک اچھے ادیب یا شاعر سے قبل ایک اچھا انسان بننا نہایت ضروری ہے ۔ اچھی غزل یا نظم کہنا اور اچھی تحریر رقم کرنا آپ کا ہنر ضرور ہو سکتا ہے مگر یہ آپ کی شخصیت کے نکھار اور تکمیل کے لیے کافی نہیں ۔ تعصب،بغض،کینہ،حسد اورغرور ایک تخلیق کار کی زبوں حالی کا باعث بنتے ہیں یا ان کمزوریوں کے ساتھ ایک تخلیق کار کوئی تخلیق کرتا بھی ہے تو شاید قدرت اس سے تاثیر چھین لیتی ہے ۔ زندگی میں جن ملکی اوربین الاقوامی سطح کے تخلیق کاروں سے میری ملاقات ہوئی حقیقی تخلیق کار کو متذکرہ بشری کمزرویوں سے دور ہی پایا ۔ دکھی صاحب بھی نہایت باکردار،ملنسار اورعاجز طبیعت کے مالک تھے ۔ اسی سبب شاید قدرت نے ان کے ہر شعر کو تاثیر بخشی تھی ۔ محبت ان کی شاعری کا جزو اعظم تھا انہوں نے ہمیشہ انسانی عظمت کے گیت گائے ۔ مذہب، رنگ،نسل اور علاقائی تفرقات کو پسِ پشت ڈال کر ہمیشہ انسانیت کے احترام کا درس دیا ۔ اپنے خطے سے محبت ان کی کی ذات کا خاصہ تھا اور فتنہ و فساد،نفرت اور تعصب کو دلوں سے نکال کر محبت کی رِیت کو عام کرنے کا درس عام کیا ۔

تعصب کے گھروں کو سیل کرلو

بنی آدم کی مت تذلیل کرلو

بدلنی ہے اگر قسمت وطن کی

تو اپنی عادتیں تبدیل کرلو

آپ اسے میری زندگی کا حاصل کہہ لیں یا ایک نا تجربہ کار فرد کاتھوڑا سا تجربہ ۔ عمر کے جوماہ و سال گزارے ہیں میں نے ان میں محسوس کیا ہے آپ کی زندگی میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے خونی رشتہ تک ہونے کے باوجود بھی آپ کو ان کا وجود یا صحبت بغیر کسی وجہ کے چند ساعتوں کے لیے بھی گوارا نہیں ہوتا اور دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ قربت اور اپنائیت محسوس کرتے ہیں اور آپ مدتوں ان کی صحبت میں رہیں بہت کم ہی لگتے ہیں ۔ قدرت نے شاید دکھی صاحب کو بھی ایسی شخصیت ودیعت کی تھی آپ جتنی دیر بھی ان کی صحبت میں رہیں قرابت اور یگانگت کا ایک بہترین احساس ہوتا تھا ۔ انسان دوستی جس فرد کا شعار ہو،رنگ و نسل اور مذہب کے تفرفات سے کوسوں دور ہو، خلقِ خدا کے لیے خوشی کا باعث بننا جو اپنے باعثِ فخر تصور کرے،احترام بشر کو جو زندگی کا سب سے بڑا مقصد گردانتا ہواوردوستوں کی محفلوں کو کشت زعفران بنانے کے ہنر سے خوب آشنا ہو تو شاید ایسی شخصیت کو داخلی اور خارجی طور پرنکھارنے کا قدرت بھی ساماں فراہم کرتی ہے اور آپ اس انسان کی صحبت کو کسی صورت فراموش کرنا گوارا نہیں کر تے ۔ میں کوئی بھی نئی غزل کہتا تو دکھی صاحب کو مسیج کرتا وہ نہ صرف نوکِ پلک سنوار کر دوبارہ بجھوا دیتے بلکہ خصوصی طور پر کال کرکے بھی کلام پر داد دیتے ۔ دکھی صاحب کے داغِ مفارقت سے گلگت بلتستان کی ادبی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا اس کے پرُ ہونے میں شاید زمانے لگیں ۔ گلگت بلتستان میں قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں دکھی صاحب جیسے عظیم انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور گلگت بلتستان کے آسمان علم و ادب کے ایک روشن ستارے کاڈوب جانا ادبی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے ۔

حلقہ اربابِ ذوق گلگت کو یہ طرہء امتیاز حاصل ہے کہ اس کی بنیاد سے اب تک اس میں موجود ممبران کے درمیان محبت،خلوص اور احترام کا ایک مضبوط رشتہ قائم رہا ہے اور ہر ایک کے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں ۔ اس قافلے میں شامل ہونے والا ہر فرد اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ محبت،خلوص اور احترام کی اس روش کو قائم رکھنے کا سہر ا سینئر شعراء کے سر جاتا ہے ۔ گلگت کے نوجوان لکھاریوں کی یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ بزرگوں نے ملک کے دیگر حصوں کے ادبی بابوں کی طرح سلوک کبھی روا نہیں رکھا ۔ ملک کے د یگر بڑے شہروں کی طرح سینئر جونیئر کے چکروں میں پڑتے ہوئے ایک فاصلہ برقراررکھا اور نہ ہی نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں بخل سے کام لیا بلکہ حلقہ ارباب ذوق گلگت کے سینئر اساتذہ اور لکھیک جن میں پروفیسرمحمد امین ضیا،عبدالخالق تاج،خوشی محمد طارق،شیر باز علی خان برچہ،عبدالحفیظ شاکر،غلام عباس نسیم اور دیگر شامل ہیں نے ہمیشہ نوجوان لکھاریوں کی ہر قدم پر بھرپور رہنمائی اورحوصلہ افزائی کی ہے اور نوجوان لکھاریوں کی ہر کامیابی کو اپنی،ادبی تنظیم اور علاقے کی کامیابی تصور کرتے ہوئے سر پر دستِ شفقت رکھا ہے ۔ دعا گو ہوں کہ خدائے بزرگ و برتر دکھی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اوردیگرتمام سینئر 
لکھاریوں کو لمبی عمر عطا کرے اور گلگت بلتستان میں ادب کی آبیاری کے لیے اپنی کاوشوں کو مزید بروئے کار لانے کی توفیق عطا کرے ۔
آمین

Tuesday, March 22, 2022

23مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا خصوصی پیغام


گلگت :  پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:- 23مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ آج کا دِن اُس عظیم دِن کی یاد دلاتا ہے جب جنوبی ایشیاکے مسلمانوں نے غلامی کی زنجیریں کاٹنے اور ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا پرُ عزم فیصلہ کیا تھا ۔ آج کے دِن اقبال پارک لاہور میں 1940کو مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے تاریخ ساز قرار داد منظور کی تھی جو بعد میں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اِس قراراداد نے منزل کو حاصل کرنے کا راستہ اور شعور دیا اور صرف 7سال کے قلیل عرصے میں پاکستان وجود میں آگیا ۔ ہ میں قائداعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ اور علامہ اقبال کے تصور پاکستان کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کا قیام جہاں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور مسلمانوں کی علیحدہ تشخص کی ضمانت تھا، وہاں ان لوگوں کیلئے امید کی کرن تھی جنہیں متحدہ ہندوستان میں مذہبی آزادی و ترقی کے مساوی مواقع سے محروم رکھا گیا اور ان کے تہذیبی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے برطانوی ہند کے مسلمانوں کو متحد کیا اور ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کی ۔ اس جدوجہد کے نتیجہ میں 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے حکومت، فوج، سلامتی کے اداروں اور عوام نے قربانی دی اور ایٹمی پاور بنا، وہاں اقتصادی خوشحالی اور ترقی کے لیے حکومت نے پوری یک سوئی کے ساتھ پیش رفت کی ۔ آج بطور قوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسا سماج تشکیل دیں جس میں رنگ و نسل یا مذہب و فرقے کی بنیاد پرکسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے ۔ ہم نے مل کر پاکستان کو ایسی فلاحی جدید ریاست بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور پاکستان ہر لحاظ سے ترقی کرے ۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر قیادت قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار اور ریاست مدینہ کے اصولوں کی روشنی میں پاکستان کو دور جدید کی ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان کو سلامت رکھے اور اسے مستقبل کی عظیم ترقی یافتہ مملکت بنائے ۔

عالمِ برج سے بطرف سکردو کسی قسم کی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں ہے صرف وہ مسافر

 

گلگت :  پھسو ٹائمز اُردُو :   پریس ریلیز  :- اسسٹنٹ کمشنر جگلوٹ عنایت اللہ نے مجسٹریٹ کے ساتھ عالم برج بیرئر کا دورہ کیا ;7067; اور پولیس جوانوں کا ڈیپلائمنٹ دیکھا انھوں نے ڈیوٹی پر مامور جوانوں کی مستعدی اور پھرتی کی تعریف کیا اور انھیں شاباش دی جوانوں کو ہدایت دیا کہ عالمِ برج سے بطرف سکردو کسی قسم کی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں ہے صرف وہ مسافر جو بلاک کے اس طرف رہائش پذیر ہیں انھیں شناختی کارڈ چیک کر کے جانے کی اجازت دی جائےاور ان تمام مسافروں کو روکیں جو بلاک کے دوسری طرف جانا چاہتے ہیں اسسٹنٹ کمشنر نے;748382; چوک پر موجود سکردو کے مسافروں سے بات چیت کی اور انھیں کہا کہ جب تک روڈ کلیئر نہیں ہوتا ہےوہ جگلوٹ سء میں رہائش اختیار کریں انھیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مفت رہائش اور کھانے کا بندوست کیا گیا ہےاور عوام جگلوٹ کی طرف سے بھی کھانے اور رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اسلیے تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ جگلوٹ تشریف لائے ۔



Friday, March 18, 2022

تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ محفوظ سفر کے لیے روڈ کھلنے کے بعد سفر کر یں, پولیس انتظامیہ

 


گلگت سکردو روڈ شاٹوٹ روندو سکردو کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہِ سے بلاک ہوا ہے جہاں پر بحالی کا کام ابھی تک تیزی سےجاری ہے ایس ایس پی گلگت اور ڈی سی گلگت موقع پر موجود ہیں روڑ کے کھلنے تک ہر لمحہ آپ کو آگاہ رکھا جا ئیگا۔ تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ محفوظ سفر کے لیے روڈ کھلنے کے بعد سفر کر یں تاکہ راستے میں پریشانی اور تکلیف سے بچ سکیں

عوام الناس سے اپیل ہے کہ مقامی پولیس سے تعاون کریں۔

 

Thursday, March 17, 2022

رواں مالی سال کے آخر تک تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے , وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز :- وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ہیلتھ سٹیئرنگ کمیٹی میں کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجحی صحت کا شعبہ ہے ۔ صحت کے شعبے کی بہتری ،ڈاکٹروں کی سپیشلا ئزیشن اور ڈاکٹروں کو بہتر پیکیج دینے کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے بڑے ہسپتالوں میں ہاءوس جاب اور پوسٹ گریجویٹ شروع کرنے کےلئے سی پی ایس پی سے ایک ہفتے میں ایم او یو کیا جائے گا ۔ سی پی ایس پی کے چیک لسٹ کے مطابق ہاءوس جاب شروع کرنے کےلئے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ مخصوص شعبوں میں درکار ایف سی پی ایس مکمل کرنے والے ڈاکٹرز کو گریڈ 18 میں ملازمت یقینی بنانے اور بہتر سہولیات کےلئے پالیسی تیار کرکے منظوری کےلئے کابینہ اجلاس میں پیش کریں ۔ صحت کے شعبے کی بہتری کےلئے ضروری قانون سازی کی گئی اور وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ رواں مالی سال کے آخر تک تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے ۔ ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے بعد گلگت، سکردو اور چلاس کے بڑے ہسپتالوں میں نیرو سمیت جدید علاج کی سہولیات یقینی بنائیں گے تاکہ گلگت بلتستان سے مریضوں کو علاج و معالجے کےلئے دیگر صوبوں میں جانے کی ضرورت نہ ہو ۔ صحت سہولت کارڈ تحریک انصاف کی حکومت کا انقلابی اقدام ہے ۔ صحت سہولت کارڈ کے ذریعے ہسپتالوں کے وسائل میں اضافہ ہوگا اور مالی طور پر مستحکم ہوں گے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں صوبے کے ہسپتالوں میں مریضوں کےلئے ایمرجنسی اور او پی ڈی مکمل فری کی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں کے آٹومیشن کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ سیکریٹری صحت اور سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے 6ماہ کے مدت میں ہسپتالوں کی آٹومیشن کے عمل کو مکمل کریں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات کی سپلائی کے عمل کو تیز کریں ۔ آئندہ مالی سال کےلئے ادویات کی خریداری بروقت یقینی بنانے کےلئے جون سے قبل کاغذی کارروائی کو حتمی شکل دی جائے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں سٹاف کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنانے کےلئے تمام ہسپتالوں میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام نصب کیا جائے ۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنانے کےلئے سیکریٹری صحت 20 اپریل 2022تک سی ٹی ایس پی کے تحت ٹیکنیکل سٹاف کی بھرتیوں کے عمل کو مکمل کریں ۔


اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی دلچسپی کی وجہ سے 1354آسامیاں صحت کے شعبے کےلئے تخلیق کی گئی ہے جن میں نیرو سرجن کی 4، ;80;eadiatric ;83;urgeonکی 4، ;80;sychiatristکی 11، کریٹیکل کریئر سپیشلسٹ کی 11، ;78;ephrologistکی 7، ;85;rologistکی 4، میڈیکل آفیسرز کی 120، ڈینٹل آفیسرزکی 11، کلینیکل سائیکولجسٹ کی 10، پیتھیالوجسٹ کی 10، جنرل نرسز کی 201، لیڈی ہیلتھ وزٹرز کی 50، آئی سی یو ٹیکنیشن کی 20، سرجیکل ٹیکنیشن کی 11، میڈیکل ٹیکنیشن کی 11، الیکٹرو میڈیکل ٹیکنیشن کی 10 اور آیا کی 25آسامیوں کی ریگولر سائیڈ پر کیریشن دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ پی سی فورزڈویلپمنٹ اور پروگرام کے تحت 832مختلف آسامیوں کی تخلیق (کیریشن)دی گئی ہے جس سے ڈاکٹروں ، جنرل سٹاف اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف کی کمی دور ہوگی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنایا جاسکے گا ۔ صوبائی حکومت نے صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کےلئے ڈاکٹروں کو خصوصی مراعات دیئے ہیں ۔ ایس پی ایس کے تحت سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تنخواہیں 3لاکھ50 ہزار کردی گئی ہے جبکہ ٹریننگ مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ 3 لاکھ کردی گئی ہے ۔ صوبے میں خدمات انجام دینے والے ریگولر ڈاکٹروں کی بھی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت نے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کےلئے خصوصی اصلاحات کئے ہیں جس کے تحت 28کنٹریکٹ ڈاکٹرز ، 61 ریگولر ڈاکٹرز اور 76پرائیویٹ ڈاکٹرز کو ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس (;65;nesthesia) کےلئے ملک کے بڑے ہسپتالوں میں بھجوایا گیا ہے جن کے تمام اخراجات صوبائی حکومت ادا کررہی ہے ۔ گلگت، چلاس اور سکردو میں ٹراما سنٹرز تعمیر کئے گئے ہیں ۔ صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جارہاہے ۔

وہاب شہید پولو گراوند میں خصوصی افراد کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا

 


گلگت: پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز پاکستان آرمی ایف سی این اے اور محکمہ سوشل ویلیفئر گلگت بلتستان کے تعاون سے وہاب شہید پولو گراوند میں خصوصی افراد کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔
کھیلوں کے مقابلوں کے مہمان خصوصی چیف سیکریٹری گلگت  بلتستان راشد محمود تھے انکے علاوہ سٹیشن کمانڈر ایف سی این اے سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری سوشل ویلفیئر ولی خان، ڈائریکٹر جنرل گلگت  بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو1122، کمانڈنگ آفیسر 108آرڈیننس یونٹ،  اور دیگر سیول و عسکری آفیسران سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کھیلوں کے مقابلوں میں کرکٹ، رسہ کشی، دوڑ اور دیگر کھیلوں کا انعقاد کیا گیا جبکہ گلگت  بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122، محکمہ صحت، محکمہ شوشل ویلفیئر سمیت دیگر محکموں کی طرف سے  خصو صی افراد کے لیے سٹالز لگائے گئے۔
چیف سیکریٹری گلگت  بلتستان اور دیگر مہمانوں نے سٹالز کا دورہ کیا اور خصوصی افراد کے مختلف کھیل دیکھے اور کھلاڑیوں کو داد دیتے رہے انہوں نے مختلف محکموں کی طرف سے لگائے گئے سٹالز کا بھی دورہ کیا، ڈائریکٹر جنرل گلگت  بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 نے ریسکیو1122کے سٹال پر رکھے ہوئے ایمرجنسی گاڑیوں اور دیگر ایمرجنسی آلات کے بارے میں مہمانوں کو بریفگ دی اور ساتھ ہی خصوصی افراد کو  ابتدائی طبی امداد، آگ بجھانے اور ریسکیو کرنے کی تربیت کے انعقاد کے لیے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کو ہدایات جاری کیئے۔
خصوصی افراد کے لیے منعقد کھیلوں کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت  بلتستان  نے خصوصی افراد کے لیے کھیلوں کے انعقاد پر پاک آرمی اور دیگر محکموں کی کاوش کو سراہا  اسکے علاوہ انہوں نے خصوصی افراد کے لیے600وئیل چیئرز فراہم کرنے کا اعلان کیا او ر مزید کہا کہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم منصوبہ پر اس وقت کام کیا جارہا ہے اور بہت جلد خصوصی افراد کو خوش خبری سنائی جائیگی۔
کھیلوں کے مقابلوں کے اختتام پر کھلاڑیوں میں تحفے اور کیش انعامات تقسیم کیئے گئے

Wednesday, March 16, 2022

گلگت بلتستان کی ٹیم نے ایک گولڈ میڈیل اور تین سلور میڈل حاصل پاکستان بھر میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے تیسری پوزیشن


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : (سپورٹس رپورٹ) :- پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے درالخلافہ کوئٹہ میں منعقدہ آل پاکستان ڈائمنڈ جوبلی میریٹل آرٹس فیسٹول 2022کک باکسنگ میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے ایک گولڈ میڈیل اور تین سلور میڈل حاصل پاکستان بھر میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ ماونٹین میریٹل آرٹس اکیڈمی کے تعاون و زیر انتظام گلگت بلتستان سے چار کھلاڑیوں نے شرکت کی جن میں سے مبشر خان ساکن استورنے گولڈ میڈل،عطاء ساکن دیامر نے سلور، حسنین ساکن جوٹیال گلگت نے بھی سلور اور عتیق ساکن جوٹیال گلگت نے بھی سلور میڈل حاصل کی ہے۔ ماونٹین میریٹل آرٹس اکیڈمی کے سربرہ و کوچ سہیل عالم قریشی نے اس حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ پاکستان بھر کے اس ایونٹ میں شرکت کی ہے جس میں کئی اداروں کے چکر لگانے اور بالخصوص سپورٹس بورڈ کے حکام کے دروازے کھٹکھٹانے کے باجود کسی نے بھی ہمارے ساتھ تعاون کرنے کی زہمت نہیں کی اس لئے میں نے اپنے جیپ سے تمام تر اخراجات کرکے پاکستان بھر میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کی ہے جس میں اللہ نے ہمیں بھر پور کامیابی دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان بھر میں گلگت بلتستان کا نام روش ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میگا ایونٹ میں پاکستان بھر سے مختلف سمیت گلگت بلتستان اور کشمیر سے 6ٹیموں نے شرکت کی تھی جس میں سے گلگت بلتستان کی کک باکسنگ ٹیم نے پہلی بار اس میگا ایونٹ میں شرکت کرکے ایک گولڈ اور تین سلور میڈل حاصل کرکے پاکستان بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور دیگر اداروں کی تعاون رہی تو گلگت بلتستان کا نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا بھر میں نمائندگی کرکے جی بی کا نام روشن کیا جائے گا

AKU-EB brings together schools’ leadership to discuss the integration of technology in education across Gilgit-Baltistan

 AKU-EB brings together schools’ leadership to discuss the integration of technology in education across Gilgit-Baltistan


As we come closer to recovering from the pandemic, it is time for educational institutions to reflect and consider ways for preparing education system to be more resilient to unprecedented disruptions, more responsive to the needs of students and conductive for lifelong learning experience in the coming future. Integrating technology in education has been an effective solution across the world. To learn about the experiences of different schools in the remote regions of Pakistan and to discuss access to modern technological tool for teaching, learning and assessment, Aga Khan University Examination Board (AKU-EB) organized a series of roundtable discussions titled “EdTech - Yesterday, Today and Tomorrow - Experiences from the Mountains of Pakistan” held in Gilgit and Gahkuh from March 7-9, 2022. The roundtable discussion was chaired by Dr Naveed Yousuf, Associate Director, Assessment and Research, Aga Khan University Examination Board Mr. Imran Bashi, the CEO of the Jenabai Welfare Organization, Dr Shehzad Jeeva, Director AKU-EB, and Mr Hanif Shariff Associate Director also attended. Many leaders from different educational institutions, NGOs and other civil society personnel attended the event.

The AKU-EB recognizes that for the remote Gilgit Baltistan, an immediate integration of technology into online teaching, learning and assessment was challenge with lack of access to proper internet connectivity. To ensure the equitable learning opportunities and no student is left behind, the Aga Khan University Examination Board and its partnership with the Knowledge Platform ensured the installation and access to technological tools available for online teaching, learning and assessment.

Mr Shah Rahim, Principal of the DJ Model High School Singal Ghizer noted that “Despite many challenges related to accessibility, we continued teaching and learning in the schools using social media groups and platforms. Our teachers learnt how to use modern gadgets for recording lectures and disseminating those to students through smart technology”, said. The lectures broadcasted through local cables with the digital library provided by the AKU-EB playing a key role during the pandemic.

Ms Robeena, Principal, Elysian Higher Secondary School Gilgit shared teachers’ experience noting that they were able to cover up the deficiencies through the lectures and reading content in the digital forms. This was an opportunity not only for students but teachers to learn many ways of integrating technology into their teaching plans.

Mr Haider Yosaf, Principal, Leadership Academy Gahkcuh noted that GB has extreme limitation in terms of access to internet facility; therefore, it was not easy for schools to shift teaching and learning to the digital forms. Schools did their best to digitize education with limited resources. Social media platforms played a huge role as these platforms worked even during poor internet connectivity. Mr Yosaf further noted that up-gradation of internet facilities in the area will bring more opportunities and lead to a paradigm shift to a new era.

Many participants highlighted the shortage of electricity in winter and high cost of gadgets as major hurdles for using new technology in Gilgit-Baltistan.

“Transition from classroom to online learning has improved collaboration among the students as well as the teachers”, said Ms Nadia Feroz Ali, Principal, Aga Khan Higher Secondary School Gahkuch.

Dr Shehzad Jeeva, Director AKU-EB suggested schools to pool up their resources and use these as common assets for the benefit of students across schools in the region. He further pointed about the issue related to cybercrime and cyber-bullying in Pakistan and emphasized about children and parents’ awareness about the matter.

In conclusion, Mr Imran Bashi, expressed that the use of technology and learning 21st century skills are the way forward for the future. “We need to keep ourselves updated of emerging technologies to be ready for more challenges in the coming future.”



جامعہ چترال میں شجرکاری مہم اورپودوں کی اہمیت پر تقریب کا انعقاد۔ طلباء میں مفت پودے بھی تقسیم ہوئے۔




 جامعہ چترال میں  شجرکاری مہم اورپودوں کی   اہمیت پر تقریب کا انعقاد۔ طلباء  میں مفت پودے بھی تقسیم ہوئے۔ 

چترال(گل حماد فاروقی) چترال یونیورسٹی میں شجر کاری مہم اور پودوں کی اہمیت پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال انعام الحق مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت  وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے کی۔ پروفیسر حفیظ  اللہ نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئے۔ تقریب سے پہلے جامعہ چترال کی لان میں ڈی سی چترال، ڈویژنل فارسٹ آفیسر سردار فرہاد علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر  حیات شاہ، ڈاکٹر ظاہر شاہ وغیرہ نے پودے بھی لگاکر  جامعہ چترال میں شجر کاری کا آغاز کردیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے آڈیٹوریم  میں  پودوں کی اہمیت پر تفصیل سے معلومات فراہم کی جس میں جامعہ چترال کے طلباء و طالبات کے علاوہ محکمہ جنگلات کے اہلکار، جامعہ چترال کے اساتذہ، واپڈا کے ریذیڈنٹ انجنئیر محمد عثمان اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ 

ڈی ایف او چترال نے  چترال میں جنگلات کی شرح، اس کی بڑھوتری اور اس کی دیکھ بال پر تفصیلی بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ چترال ایک خشک علاقہ ہے جہاں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ بالائی علاقوں میں پودوں کو کامیاب کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ انہوں نے اسلامی نقطہ نظر سے بھی پودوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور شرکاء پر زور دیا کہ اپنے مرحومین کی ایصال ثواب کیلئے صدقہ کے طور پر پودے لگائے انہوں نے طلباء و طالبات  کو بھی مشورہ دے  کہ وہ اپنے زمینوں میں  ضرور پودے لگائے جب یہ تناور درخت بنیں گے تو ان کو یونیورسٹی میں داحلہ اور حتیٰ کی ان کی جہیز کا خرچہ بھی اس سے نکل سکتا ہے۔ 

ڈپٹی کمشنر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پودے ہماری زندگی کی بقاء کیلئے لازم و ملزوم ہیں اور یہ درخت ہمیں ٹنوں کی حساب سے تازہ آکسیجن دیتی  ہیں۔ انہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ ضرور شجرکاری مہم میں حصہ لے اور اپنے حصے کے دو درخت ضرور لگائے۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے کہا کہ جامعہ چترال اپنی نہایت محدود وسائل کے باوجود  اس قسم کے مفید تقریبات میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ چترال کے پاس نہایت کم زمین ہے  کیونکہ یہ یونیورسٹی ایک ٹیکنیکل کالج کی عمارت میں قائم کیا گیا ہے جو کسی بھی صورت میں یونیورسٹی کیلئے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے حصے کا فنڈ تو دیا ہے مگر صرف صوبائی حکومت کی جانب سے ابھی تک انتظار ہے کہ وہ بھی اپنے حصے کا فنڈ ریلیز کرے تاکہ اس جامعہ کیلئے مزید زمین خریدا جاسکے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے توسط سے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس جامعہ سے  پیوست محکمہ ذراعت کا عمارت ہے اب چونکہ ہم نے اس جامعہ میں ذراعت کا شعبہ بھی کھولا ہے تو اس دفتر کی عمارت کو جامعہ میں ضم کیا جائے تاکہ ہماری  کلاس روم وغیرہ کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکے۔ 

جامعہ چترال کے دیگر پروفیسر حضرات اور ماہرین نے بھی پودوں کی اہمیت اور انسانی زندگی کیلئے اس کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مہمانوں کو جامعہ چترال کی جانب سے شیلڈ بھی پیش کئے گئے۔ تقریب کے احتتام پر جامعہ چترال کے طلباء اور عوام میں مفت پودے بھی تقسیم کئے گئے تاکہ وہ ان پودوں کو لگاکر ملک میں جنگلات کی کمی کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔



Saturday, March 12, 2022

امپھری کے قریب کشمیری محلہ میں خوردنی اشیا ٕ کے ایک دکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی

گلگت : پھسو ٹائمزاُردُو : پریس ریلز :۔ دن کے قریبآ1.00 بجے
امپھری کے قریب کشمیری محلہ میں خوردنی اشیا ٕ کے ایک دکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی آگ آتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے شعلے بلند ہونے لگے اور پورے دکان کو اپنے لپیٹ میں لے لیا اور اردگرد پھیلنے لگی۔گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122کو اطلاع ملتے ہی شفٹ انچارج کی ہدایت پر ریسکیو1122 کے اہلکار آگ بجھانے والی ٹرک اور ایمبولینس سمیت جاٸےحادثے پر پہنچ گئے اور 20 منٹ مسلسل جدوجہد کے بعدآگ پر مکمل قابو پالیا۔ جس سے اردگرد واقع مکانات کو ایک بہت بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ وہاں پر

Sunday, March 6, 2022

غازیان دیامر کی ایک اہم میٹنگ تانگیر میں زیر صدارت عبدالمالک قریشی صدر غازیان دیامر منعقد ہوئی


 چلاس : پھسو ٹائمز اُردُو : محمد علی خان :- غازیان دیامر کی ایک اہم میٹنگ تانگیر میں زیر صدارت عبدالمالک قریشی صدر غازیان دیامر منعقد ہوئی ۔ میٹنگ میں کوآرڈینیٹر دیامر حوالدار سرور صاحب، جنرل سیکریٹری احمد علی صاحب، نائب صدر حوالدار شمشاد صاحب، ڈپٹی سیکریٹری فنانس حوالدار فضل صاحب ، جنرل سیکریٹری چلاس حوالدار غیاص صاحب، صدر تحصیل داریل حوالدار الطاف صاحب، صدر تحصیل تانگیر حوالدار وکیل صاحب و دیگر عہدیداران کے علاؤہ غازیان تانگیر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ میٹنگ میں غازیان دیامر کی اہم اشیوز پر بحث ہوئی اور آ ئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔  جس میں یہ بھی  طے کی گئی کہ 10 مارچ 2022 کو بوقت 10 بجے چلاس میں غازیان دیامر کے عہدیداران کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی اور اس کے فوراً  بعد  پریس کانفرنس کی جائے گی۔

Friday, March 4, 2022

ہنزہ میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق


 لاہور : پھسو ٹائمز اُردُو : نمائندہ خصوصی 

ہنزہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے عہدیداروں نے آج لاہور میں  جناب ہاشم رضا،  سی ای او  سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، وزارت صنعت حکومت پاکستان  سے ملاقات کی۔ ۔

ملاقات کے دوران ہنزہ میں چھوٹے کاروباریوں کی ترقی،  ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ،  خواتین کو بااختیار بنانے،  پیشہ ورانہ تربیت  اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہنزہ میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔۔۔


متعلقہ اتھارٹی نے مندرجہ بالا اجزاء کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اور ہنزہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے ذریعے ہنزہ میں چھوٹے کاروباری برادریوں کی مدد کی جائے گی

Wednesday, March 2, 2022

دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور اور ضلع اپر چترال کی سڑکوں کی تعمیر پر چالیس سال بعد کام شروع ہوا جس سے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

 


ضلع اپر چترال اور  شندور  کی سڑک کی تعمیر پر چالیس سال بعد کام شروع ہوا  جس سے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے اگر ایک طرف لوگوں کو سفری سہولیات میسر ہوکر حادثات میں کمی آئے گی تو دوسری جانب اس سے اس پسماندہ ضلع کی سیاحت بھی فروغ پاکر ترقی کا باعث بنے گی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹیNHA کے زیر نگرانی بننے والی   اس سڑک  کی کل لمبائی 153 کلومیٹر ہے  جبکہ اس کی چوڑائی 42 فٹ ہے۔ اس سڑک میں 23 پُل، کلوٹ، حفاظتی دیوار، نکاسی کا نالہ اور شولڈر بھی شامل ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر NHA  طارق موسیٰ میمن کے مطابق  اس منصوبے کی پی سی ون کیلئے 16.55 ارب روپے منظور ہوچکے ہیں جو دو سال میں مکمل ہوگا اور انہیں چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چترال میں سڑکوں کی تعمیر  کیلئے جدو جہد کرنے  والی غیر سیاسی تنظیم CDM یعنی چترال ڈیویویلپمنٹ مومنٹ کے رضاکاروں نے  زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کرکے اس پر تسلی کا اظہار کیا۔  سی ڈی ایم کے اراکین نے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر منظور احمد افریدی سے بھی ملاقات  کرکے مطالبہ کیا کہ اس سڑک میں آنے والی  لوگوں کی نجی زمینات کی ادایگی کیلئے فوری اقدامات  اٹھایا جائے  تاکہ کام میں کوئی رکاوٹ  نہ آسکے۔  اور لینڈ کمپینسیشن کے سلسلے میں سڑک میں آنے والی زمین کا سروسے کیا جائے  تاکہ ان کو  زمین کی معاوضہ کی بروقت ادایگی ہوسکے۔ڈپٹی کمشنر نے  ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی  کے ساتھ ساتھ  ان رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو علاقے  کیلئے   بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دی ڈی ایم  کا  وفد چئیرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ، شبیر احمد، عنایت اللہ اسیر، مولانا اسرار الدین الہلال،لیاقت علی،شیر حکیم وغیرہ پر مشتمل تھا تنظیم  کے اراکین نے  کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  مطالبہ کیا  کہ چترال کی دیگر وادیوں کی سڑکوں پر بھی  کام شروع کیا جائے اور اسے بلدیاتی انتحابات کے بعد  بھی جاری رکھا جائے تاکہ چترال کے لوگوں کی مشکلات میں بھی کمی آسکے جو آئے روز حادثات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔  

این ایچ اے کے کنسلٹنٹ احمد خان لنگا  کا کہنا ہے کہ یہ کام دو سالوں میں مکمل ہوگا اور کام بھی نہایت معیاری ہے۔ CDM کے اراکین نے چترالی عوام کی جانب سے  وفاقی حکومت اور این ایچ اے حکام کا بھی شکریہ ادا کیا  جو عوام کے اس دیرینہ  مطالبے پر عملی  طور پر کام کررہے ہیں جس سے حادثات میں کمی  بھی آئے گی اور  سیاحت بھی فروغ پاکر اس پسماندہ علاقے کی ترقی کا باعث بنے گا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے سی ڈی ایم کے چئیرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے  بتایا کہ اس سڑک کی تعمیر میں سرکاری اراضی پر کام تو ہورہا ہے جس کی ہم تعریف کرتے ہیں مگر جہاں لوگوں کی ذاتی زمین ہے اس کا بھی سرو ے کرکے ان کو بروقت معاوضہ دیا جائے تاکہ کام میں کسی قسم کا رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ تورکہو سڑک پر پچھلے بارہ سالوں سے کام ہورہا ہے مگر حال ہی میں ٹھیکدار  چھٹی گیا ہوا ہے اب چونکہ موسم کافی گرم ہے تو سی اینڈ ڈبلیو کے ارباب احتیار سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ٹھیکدار کو واپس بلاکر کام فوری شروع کروایا جائے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بروغل کی سڑک پر کام شروع کیا جائے تاکہ اس علاقے کی سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکے۔ انہوں  مطالبہ کیا کہ  اوویر سڑک، کوشت پل،ارندو سڑک، کریم آباد، گرم چشمہ اور آیون بمبوریت وادی کیلاش کی سڑکوں پر بھی فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پچھلے سال تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ریشون کا خوبصورت علاقہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا مقامی لوگوں نے اپنی زمین سڑک  کی تعمیر کیلئے دیا ہے کیونکہ پرانا سڑک دریابرد ہوچکا تھا مگر ان لوگوں کو ابھی تک زمین کا معاوضہ نہیں ملا ہے ان کو بھی فوری طور پر معاوضہ دیا جائ

چترال(گل حماد فاروقی)


علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے سمسٹر بہارسال 2022 کے داخلوں کا شیڈول جاری کردیا

 

گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : (پ ر):-  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے سمسٹربہار سال 2022 کے لیے داخلوں کے شیڈول کا اعلان کردیاگیا ہے۔دوسرے مرحلے کے داخلے پاکستان کے چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک ساتھ یکم مارچ سے شروع ہو چکے ہیں۔ AIOU ریجنل آفس گلگت سے جاری بیان کے مطابق،اس مرحلے میں پیش کئے جانے والے پروگراموں میں بی اے(ایسوسی ایٹ ڈگری) بی بی اے، ایم اے، ایم ایس سی، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرامز، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز، بی ایس پروگرامز، ٹیچر ٹریننگ پروگرامز دو سالہ ایم اے، ایم ایڈ اور بی ایڈاور سرٹیفکیٹ کورسز شامل ہیں۔ ڈیجٹلائزیشن کے تحت تمام پروگراموں میں آن لائن داخلہ اور پراسپکیٹس یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.aiou.edu.pk پر دستیاب ہیں۔ بی اے (ایسوسی ایٹ ڈگری) اور بی ایڈ کے پراسپکیٹس ریجنل آفس گلگت اور تمام اضلاع کے سیل پوائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔طلبا کی سہولت کی خاطر یونیورسٹی نے داخلہ فیس، جاز کیش، ایزی پیسہ اور یو پیسہ کی موبائیل ایپ 786 USSD#ئٌ سٹر نگ، ریٹیلرایجنٹ، فرنچائز اور موبی لنک، ٹیلی نار، یو بینک کی برانچز کے ذریعے بھی فیس جمع کرانے کی سہولت فراہم کی ہے۔ علاوہ ازیں سمسٹر خزاں 2021 کے میڑک، آئی کام اور ایف اے پروگراموں کے فائنل امتحانات بھی یکم مارچ 2022 سے شروع ہو چکے ہیں۔ جو کہ 12 اپریل تک جاری رہیں گے۔ رول نمبر سلپس طلبہ کو بذریعہ ڈاک ارسال کی جاچکی ہیں۔ رول نمبر سلپس طلبہ کے سی ایم ایس پوٹلز پر بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔ طلبہ اپنی رول نمبر سلپس سی ایم ایس اکاوئنٹ سے ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں جو امتحانات میں شرکت کے لیے قابل قبول ہونگی۔ مزید معلومات کے لیے طلباء یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر میں قائم کردہ Help Deskسے مفت استعفادہ کر سکتے ہیں۔ داخلہ لینے کے خواہش مند طلبا ء ہفتہ، اتور کو بھی AIOU ریجنل آفس گلگت سے پراسپیکٹس حاصل کر سکتے ہیں۔