Friday, February 25, 2022

ہنزہ بھر میں بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کورونا وائیرس کی روک تھام کے لئے تیسری ڈوز لگوانے کا عمل تیزی سے جاری ہے

 

ٹصویر پھسو ٹائمز کی ملکیت فائل سے

ہنزہ : پھسو ٹائمز اُردُو :  (سیما کرن ) : -  ہنزہ بھر میں بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کورونا وائیرس کی روک تھام کے لئے تیسری ڈوز لگوانے کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ اس سلسلے میں ہنزہ التت کے مختلف محلوں میں پیرا میڈیکل سٹاف اور لیڈی ہیلتھ ورکرزاپنی فراءض کی بجاء آوری میں سر گرم عمل ہیں ۔ جن کی قیادت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مبین کر رہئے ہیں ۔ اس کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لئے عوام الناس سے پُر زور اپیل کی گئی ہے کہ ہر ایک شہری اپنا ٹیکہ لگوا کر مذ کورہ بیماری سے خود اور دوسروں کو بھی نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مستقبل میں سر زمین ہنزہ اوُمی کرون یا کورونا سے پاک رہئے

ضلع استور میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا۔مہم 25 فروری سے یکم مارچ تک جاری رہے گی

 


استور : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:- ضلع استور میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا۔مہم 25 فروری سے یکم مارچ تک جاری رہے گی۔ اس ضمن میں ایک تقریب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال استور میں منعقد ہوٸی۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر استور محمد ذوالقرنین خان تھے۔جبکہ تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استور ڈاکٹر صلاح الدین، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نواب خان، ڈبلیو ایچ او کا نماٸندہ شاکراللہ، ڈسٹرکٹ ویکسین سپرواٸزر عطااللہ اور صحافی شریک  تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استور نے کہا کہ انسداد پولیو ایک قومی مہم ہے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے معاشرے کے  ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔تاکہ ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے پولیو کا مرض کا خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت استور نے اس قومی مہم کو کامیاب بنانے کے حوالے سے تمام تر تیاریاں کی ہیں اب تمام والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے  ضرور پلاٸیں۔انہوں نے کہا کہ اس قوم مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کرۓ گی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استور نے بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ ڈاکٹر صلاح الدین ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استور نے کہا کہ اس مہم کے دوران کل 14667 بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلاۓ جاٸیں گے۔جبکہ اس مقصد کے لیے 127 موباٸل ٹیمیں قاٸم کی گٸی ہیں۔ جبکہ ٹرانزٹ پواٸنٹ اور فیکس سینٹرز بھی قاٸم کیے گٸیے ہیں۔


غیر قانونی کمرشل تعمیرات پر مالک گرفتار، ایک لاکھ روپے جرمانہ، دکان سیل


 گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پ ر :-  غیر قانونی کمرشل تعمیرات پر مالک گرفتار، ایک لاکھ روپے جرمانہ، دکان سیل۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز AC / ایڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت امیر تیمور نے چیف کوآرپوریشن آفیسر بلدیہ عظمیٰ گلگت عابد حسین میر کے تحریری شکایت پر میونسپل حدود میں  NOC  کے بغیر دکان کی تعمیر پر مالک پر جرمانہ کرتے ہوئے دکان سیل کردیا، جب تک بلدیہ عظمیٰ گلگت سے کمرشل تعمیرات کیلئے اجازت نامہ حاصل نہیں کریں گے کام نہیں کرنے دونگا۔ میونسپل حدود میں بلدیہ این او سی کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے انتظامی رٹ چیلنج کرنے والوں کی سزا جیل ہے واضح رہے مزکورہ  مالک دکان کو بلدیہ انجینئرنگ سیکشن کی جانب سے کئی دفعہ ادارے کے جانب سے نوٹسز جاری ہوچکے تھے اور تعمیرات روکنے کے ساتھ این او سی کے حصول کیلئے بلدیہ آفس سے رابطہ کرنے کو کہا گیا تھا، مگر دکان مالک کی جانب سے بلدیہ بلڈنگ انسپکٹر ز کے نوٹسز کو نظر انداز کرنے پر یڈ منسٹریٹر نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مالک کو گرفتارکرنے کا حکم دیا تھا۔ یوں حکم کی تعمیل نہ کرنے پرجمعرات کے روز ایڈ منسٹریٹر کے سامنے پیش کردیا گیا۔ ایڈ منسٹریٹر امیرتیمور نے حکم کی خلاف ورزی اور انتظامی رٹ کوچیلنج کرنے پر مالک دکان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اوردکان کوغیر معینہ مدت کیلئے سیل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر چیف کوآرپوریشن آفیسر بلدیہ عظمیٰ گلگت عابد حسین میر، ٹاون انجینئر، اور سائٹ انجینئرز بھی موجود تھے۔ بعد ازاں AC / ایڈ منسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ گلگت امیر تیمور نے ٹاون انجینئر، سائٹ انجینئرز اور ببلڈنگ انسپکٹرز کو سختی کے ساتھ حکم دیا کہ وہ شہر میں بلدیہ این او سی کے بغیر ہونے وا لی تعمیرات کا روزانہ رپورٹ دیں، ڈیوٹی میں کوتاہی اور کاہلی ناقابل برداشت ہے انہوں نے انتباہ کیا کہ آئندہ کوئی بھی تعمیرات ایڈ منسٹریٹر کے اجازت کے بغیر نہیں ہونگی خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کاروائی ہوگی۔انتظامی رٹ ہر حال میں قائم رکھیں گے

ڈی جی اس کام سے مطالبہ ہے کہ وہ فورا طور پر چلاس کے متاثرہ محلوں میں بوسٹر لگا کے علاقے کو کمیونیکیشن کی سہولیات فراہم کریں


 چلاس : پھسو ٹائمز اُردُو : محمد علی خان :-  محلہ فاروق آباد پٹھان محلہ فارسی ون سرکاری کالونی اور اولڈ ریسٹ ہاوس کے علاوہ متعدد دیگر مقامات پے اس کام کے سگنل نہیں آرہے ایس کام نے بوسٹر ہٹا دیا ہے نیا بوسٹر ابھی تک نہیں لگایا گیا  عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اس جدید دور میں کمنیکیشن کی سہولیات سے محروم ہے اس ایریے میں سب سے زیادہ اس کام سروس استعمال کرنے والے لوگ ہیں سگنل نہ ہونے کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی جی اس کام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فورا بوسٹر لگا کے علاقے کو کمیونیکیشن کی سہولیات فراہم  کریں طلبہ اور دیگر صارفین شدید مشکلات کا شکار ہے اور ہزاروں کی تعداد میں آبادی کمیونیکیشن کی سہولیات سے محروم ہو چکی ہے ہے ساتھ ہی نیٹ نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں ہیں

Wednesday, February 23, 2022

گلگت : مارچ کے مہنے میں میٹرک اور ایف اے کے امتحانات ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ہونگے

 


گلگت۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام امتحانی عملے کے لئے ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں امتحانی عملے کو ڈیجلیٹلائزڈ سسٹم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر دلدار حسین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرصومیہ زہراء نے امتحانی عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی یو کے زیر اہتمام مارچ کے مہینے سے میٹر ک اور ایف اے کے امتحانات شروع ہورہے ہیں جس میں امتحانی عملے کے لئے سابقہ روایات سے ہٹ کر دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ڈیجلیٹائزیشن کیا جارہا ہے جس میں امتحانات کے سسٹم کو مذید شفاف بنانے کے لئے موبائل ایپس اور ویب سائٹس کے سسٹم متعارف کر وائے گئے ہیں تاکہ امتحانات بروقت اور آسانی کے ساتھ منعقد ہو سکیں ورکشاپ کے دوران امتحانی عملے نے اس سسٹم کی تعریف کرتے ہوئے مختلف سوالات بھی کئے جن کا موقع پر ہی جواب دے کر مطمئن کر وایا گیا۔

Tuesday, February 22, 2022

92 years old Kalash woman buried after performing 2 days death ceremony at Kalash lower Chitral


 92 years old Kalash woman buried after performing 2 days death ceremony at Kalash lower Chitral 

By Gul Hamaad Farooqi 

CHITRAL:  A well-known personality of Kailash tribe, social worker, hotel owner Abdul Khaliq Kailash's mother Sherkani died at the age of 92 year at Krakar village She i was buried on the second day after performing all religious rites according to Kailash culture. The body of the deceased was  kept  at Jastkan, a religious place of worship of the Kailash tribe.  During this period  notes of Rs. 100 and 1000 putting to decorate their caps or head.  Religious leaders called Qazi coming there turn by turn  standing at the head or feet of the deceased, praising them and paying homage to them. 

According to the Kailash tribe, religious rites are performed on the death of a man for three days in which  boys beating drum and women sing the song of the deceased, perform special  folk dances and men also perform traditional dances  with the beating of drum  in a unique style. They also open areal firing  at the time of his burial. On the death of a woman, rituals are performed for one to two days. But at the time of his burial, aerial firing is not done and drums are not often played. 

The death of the late Sherkani was celebrated for two days in which forty goats, an ox and two calves were also slaughtered. The Kailash people slaughter these animals through  the Muslims so that the charity given to the deceased can be eaten by both the Kailash and the Muslims living in the valley. On the death of Sher Kani, a large number of people of Kailash tribe had also come from Barir Valley and Rambor Valley. At night, they were treated to cheese, lassi and chapatti, while during the day, when the body was buried, guests were given food, including meat, ghee, bread and traditional food. Josh is a delicious food that is prepared by cooking flour in meat broth. About three canisters of desi ghee and cheese were also offered to the guests at the funeral. 

From the day of death, biscuits and bakers were also offered along with tea to the guests who came for condolence. At last late  Sherkani  was buried with all of  her belongings in the grave, they left the bed in which her body was taken to the graveyard upside down on top of his grave. The men also washed their hands in the same canal after burying the corpse and then joined in the meal. 

Our correspondent also went to Kailash Valley for two days for coverage all these rituals  events and talked to the people concerned. Lok Rahmat Kailash says that we slaughter these animals with this belief so that there is charity for the deceased and birds are also fed in it. He said that when  a child is born, everyone celebrates its birth, but the people of Kailash give it to them happily even at the time of death and even then they would play drums and sing songs so as to see off the deceased person. 

Abdul Khaliq Kailash said that our mother was a great woman, , she gave us a good education and now my children are all successful. One of my  son is also an officer in the National Accountability Bureau. "I will always miss my mother and always remember her," He  said. A large number of guests from the three valleys came to offer condolences on the death of the late Sherkani and this process will continue for many more days

چلاس DC دیامیر نے آر ایچ کیو ہسپتال کے زیر تعمیر منصوبے کے تعمیراتی کام میں تاخیر پر ٹھکیدار کو وارننگ جاری کردیا گیا

 چلاس : پھسو ٹائمز اُردُو : بیورو چیف :-   ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد صاحب نے چلاس آر ایچ کیو ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا ہسپتال کے زیر تعمی
ر منصوبے کے تعمیراتی کام میں تاخیر پر ٹھکیدار کو وارننگ جاری کردیا گیا اور موقع پر ایکسئین تعمیرات کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کے بنیاد پر انجینئر کے ذریعے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کریں۔ڈپٹی کمشنر دیامر نے چلاس یسپتال میں صفائی و ستھرائی کا بھی معائنہ کیا , ہسپتال کے سیکورٹی گارڈز کو پراپر یونیفارم مہیا کرنے پر ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر دیامر نے ہسپتال کے احاطے میں  شجر کاری مہم کے حوالے سے ایم ایس چلاس ہسپتال کو ہدایت جاری کی کہ وہ کل سے ڈی ایف او چلاس کیساتھ مل کر باقاعدہ پلانٹیشن کا آغاز کریں۔ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے احساس نشونما سنٹر کا بھی ویزٹ کیا اور اس موقع پر کرونا وارڈ کی جلد اور فوری مرمت کی ہدایت کی اور کہا کہ احساس نشونما سنٹر کو نئے  کمرے میں شفٹ کیا جائیگا۔ڈپٹی کمشنر دیامر  فیاض احمد خان نے کہا کہ لوگوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں ہوں لوگوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں

گلگت : جو بھی آرکٹیکٹس فرم یا کمپنی جاری حکمنامہ کے تحت نقشہ جات بنائیگی اسے ہی قبول کیا جائے گا بغیر رجسٹریشن کسی بھی تعمیراتی نقشہ قبول نہیں ہوگا


 گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو :  (پ ر)

 ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت امیر تیمور کا بڑا فیصلہ، PCATP(پاکستان کونسل آف آرکٹیکٹس اینڈ ٹاون پلانر ز) سے رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی فرم یا فرد کی جانب سے بنائے جانے والے نقشہ جات کی منظور ی پر پابندی عائد کردی۔ گلگت میونسپل حدود میں قائم آرکٹیکٹس نقشہ جات بنانے والے تمام نجی فرمز اور افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی کمپنی، فرم کی رجسٹریشن یا لائسنس کی کاپی کے ساتھ دیگر کاغذات کے ہمراہ بلدیہ میونسپل آفس آکر تعمیراتی نقشہ جات کی منظوری حاصل کریں، بصور ت دیگر میونسپل کارپوریشن گلگت کسی بھی مکان، دکان، فیکٹری،کمرشل یا رہائشی تعمیرات کے لئے بنائے جانے والے نقشوں کی منظوری نہیں دے گی اور نہ ہی قابل قبول ہونگی۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر بلڈنگ بائی لاز کے تحت سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ انہوں نے گلگت بلتستان لوکل کونسل بورڈ کے جانب سے تحریری ہدایات پر مشتمل لیٹر نمبر/2016-17(20)LCB-1 و لیٹر نمبری CB-GB/05-2018 کے تحت جاری کیا ہے منگل کے روز اپنے دستخطوں سے جاری حکمنامہ میں سختی کے ساتھ ہدایت دی ہے کہ جو بھی آرکٹیکٹس فرم یا کمپنی جاری حکمنامہ کے تحت نقہ جات بنائیگی اسے ہی قبول کیا جائے گا بغیر رجسٹریشن کسی بھی تعمیراتی نقشہ قبول نہیں ہوگا ایڈ منسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ ایسا کسی بھی نقشے کو مسترد کرے گا بھوگس اور نام نہاد کمپنیوں کے بنائے جانے والے نقشوں پر پابندی عائد ہے لہذا میونسپل حدود میں کمرشل، رہائشی، فیکٹری، پلانٹس اور دیگر تعمیراتی نقشہ جات بنانے کیلئے پاکستان کونسل آف آرکٹیکٹس اینڈ ٹاون پلانرز کے جانب سے لائسنس یافتہ  فرم یا کمپنی ہی منظورشدہ نقشہ جات ہی قابل قبول ہونگے، میونسپل کارپوریشن بلڈنگ سیکشن PCATP سے منظورشدہ ضروری کاغذات لائسنس وغیرہ کے ساتھ 25 فروری 2022بوقت 11بجے صبح میونسپل آفس تشریف لائیں تاکہ ادارہذا آپ کی فرم یا کمپنی کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ مزید معلومات ایڈ منسٹریٹر بلدیہ آفس سے دفتری اوقات میں حاصل کریں۔

جگلوٹ سکردو روڈ : کل 12 بجے سے پہلے کھولنے کا امکان نہیں ہے لہذا کل 12 بجے تک سفر کرنے سے محتاط رہے


 آج صبح  آنے والے زلزلے سے بشمول ملوپا جگلوٹ سکردو روڈ کٸ جگہوں پر بلاک ہوۓ تھے جس پر FWO کا کام تیزی سے جاری ہے تاہم روڈ کل 12 بجے سے پہلے کھولنے کا امکان نہیں ہے لہذا کل 12 بجے تک سفر کرنے سے محتاط رہے۔ مسافر حضرات سے گزارش ہے کہ ستک ہوٹل سے بطرف گلگت اور شہٹوٹ ہوٹل سے بطرف سکردو روانگی نہیں ڈالے تاکہ FWO کا کام میں خلل نہ پڑے اور آپ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکیں۔

دبئی : ویژن 2040 اور ویژن 2050 تیار کیا ہے تاکہ دنیا کے خوبصورت ترین حصے کو دیگر بین الاقوامی سیاحتی مقامات کے برابر رکھا جا سکے، سی ایم جی بی

 دبئی : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز 

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد  خورشید نے پاکستان بزنس کونسل دبئی کی جانب سے منعقدہ  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  "ہم ایکسپو 2020 دبئی میں سیاحت، زراعت، کان کنی، مہمان نوازی، توانائی اور فوڈ پروسیسنگ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کی طرف سے مثبت پیشرفت سے بہت مطمئن ہیں۔"گلگت بلتستان حکومت سیاحت، توانائی اور زراعت میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ہماری صوبائی حکومت نے ویژن 2040 اور ویژن 2050 تیار کیا ہے تاکہ دنیا کے خوبصورت ترین حصے کو دیگر بین الاقوامی سیاحتی مقامات کے برابر رکھا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان حکومت پاکستانی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کی خواہشمند ہے، اگر وہ دنیا کے خوبصورت ترین حصوں میں سے ایک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فروری کا مہینہ گلگت بلتستان کے لیے پاکستان پویلین میں سیمینارز، بریفنگ اور پینل ڈسکشن کے ذریعے اپنی اقتصادی اور سیاحتی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ گلگت بلتستان کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں 40,000 میگا واٹ تک ہائیڈل پاور پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، پھلوں کے باغات کے لیئے  زرعی زمین، دریا کے کنارے ہوٹلوں اور ریزورٹس کی تعمیر کے لیے مثالی مقامات کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات اپنی مثال آپ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دو نئے شہروں جن میں سکردو اور گلگت میں ترقی کے منصوبے کو حتمی شکل دی ہے جن کا  باضابطہ اعلان مارچ میں متوقع ہے۔اس موقع پر یو اے ای میں موجود پاکستانی سفیر افضل محمود نے اختتامی کلمات ادا کیئےاور کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی میں گلگت بلتستان نے اپنے اہم اقتصادی شعبوں کو مؤثر طریقے سے اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان مواقع کی سرزمین ہے اور اس سے سیاحت، انفراسٹرکچر اور مہمان نوازی میں ممکنہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی امید ہے۔ ہم 24 فروری کو ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بارے میں بھی بہت پرامید ہیں جہاں میگا ایونٹ کے موقع پر، سرمایہ کاری کانفرنس سے قبل پینل اور گروپ ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، اس کانفرنس میں امریکی اور یورپی سرمایہ کار شرکت کریں گے۔تقریب میں دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور خلیجی سرمایہ کاروں کو اپنے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے جس کے ثمرات بہت جلد حاصل ہونگے

22فروری "عالمی یوم اسکاؤٹ" کے موقع پر وزیر اعظم شجر کاری مہم 2022 کا باقاعدہ آغاز


گاہکوچ - غذر: پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز :- 22فروری "عالمی یوم اسکاؤٹ" کے موقع پر وزیر اعظم شجر کاری مہم 2022 کا باقاعدہ آغاز آج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں محکمہ جنگلات ضلع غذر کی خصوصی تعاؤن سے کیا گیا, اس مہم آغاز اسسٹنٹ کمشنر پونیال اشکومن جناب غضفر علی خان صاحب نے سٹی پارک گاہکوچ میں اپنے دست مبارک سے پودا کر کیا, اور یکے بعد دیگرے تمام مہمانوں نے پورے لگا کر اس مہم میں شریک ہوئے, IDBSA-Punial کے اسکاؤٹس نے اس موقع پر بھر پور شرکت کرتے ہوئے  مختلف پودے لگائے پروگرام کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے مہمانوں خصوصی نے معاشرتی ترقی اسکاؤٹس کے کردار کو سراہا, اور اسکاؤٹس نے تمام معزز مہمانوں کے ساتھ مل کر عالمی یوم اسکاؤٹ کا 155واں سالگرے کا کیک کاٹے اسی طرح یہ پررونق پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا.

Sunday, February 20, 2022

گلگت بلتستان کے مایہ ناز دانشور نقاد مفکر واستاد شاعر جناب جمشید خان دکھی 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

 

 گلگت بلتستان کے مایہ ناز دانشور نقاد مفکر واستاد شاعر جناب جمشید خان دکھی 66 برس کی عمر میں انتقال 
کر گئے۔ 

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

 
 گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : بیورو رپورٹ : -جمشید دکھی کی شاعری کو مزاحمتی ادب کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے، جس میں شمالی علاقہ جات کے مسائل اور اربابِ اختیار کی بےحسی کو موضوع بنایا گیا۔ دکھی مادری زبان شناء اور  اردو میں بھی شاعری کرتے تھے، جس کا ایک نمونہ اس شعر کی شکل میں حاضر ہے، جس سے ان کی افتادِ طبع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: (بی بی سی ڈاٹ کام سے منتخب)
نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں
وہ حاکم کس طرح آئین دیں گے
گلگت بلتستان کے حیبب جالب جمشید خان دکھی 15 جون 1956 کو شہر گلگت کے خوب صورت مقام کشروٹ میں پیدا ہوئے۔ ہائی اسکول نمبر1 گلگت کی تاریخی درسگاہ سے آپ نے 1972 میں میڑک کا امتحان پاس کیا اس کے بعد محکمہ جنگلات میں ملازمت اختیار کی۔ دوران ملازمت اپنے علمی شوق کی تشفی کےلیے پرائیویٹ امتحانات دیے۔ اسی طرح آپ تعلیمی لحاظ سے گریجویٹ تھے۔
دکھی گلگت کی تنگ وادی میں رہتے ہوئے بھی تنگ نظری کو قریب پھٹکنےنہیں دیا۔
آپ گلگت کے فعال و معروف ادبی تنظیم حلقہ ارباب زوق کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ 

Labels: , , ,

کیلاش قبیلے کی معمر خاتون شیر کانی 92 سال میں انتقال، موت کا رسم کتنے دن تک منایا اور کتنے جانور ذبح کئے گئے


چترال : پھسو ٹائمز اردُو : (گل حماد فاروقی) :- کیلاش قبیلے کے معروف شحصیت، سماجی کارکن، ہوٹل مالک  عبد الخالق کیلاش کی والدہ شیرکانی  92  سال کی عمر میں فوت ہوئی۔آنجہانی کو کیلاش ثقافت کے  مطابق پورے مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد دوسرے دن سپرد خاک کی گئی۔آنجہانی کی جسد خاکی کو کیلاش قبیلے کے مذہبی عبادت گاہ جستکان میں رکھی گئی تھی۔اس کی سرہانے تعظیم کے طور پر سو، پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ بھی رکھے گئے تھے۔کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جنہیں مقامی زبان  میں قاضی کہلاتے ہیں وہ باری باری آکر میت کے سرہانے یا پیروں کی جانب کھڑے ہوکر ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
کیلاش قبیلے کے رسم کے مطابق مرد کی مو ت پر تین دن تک مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جن میں ڈھولک بجاکر   خواتین میت کی گیت  گاتی ہیں ، محصوص رقص پیش کرتی ہیں اور مرد بھی نرالی انداز سے ڈھولک کی تھاپ پر روایتی رقص پیش کرتے ہیں اور اس کی دفن کرنے کے وقت ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں۔ جبکہ خاتون کے موت پر ایک سے دو  دن تک رسم ادا کرتے ہیں۔  مگر اس کی دفنانے کی وقت ہوائی فایرنگ نہیں کی جاتی اور اکثر ڈھولک بھی نہیں بجا یا جاتا۔
آنجہانی شیرکانی کے موت کا رسم دون دن تک منایا گیا جس میں چالیس بکرے، ایک بیل اور دو بچھڑے بھی ذبح کئے گئے۔ کیلاش لوگ ان جانوروں کو مسلمانوں سے ذبح کراتے ہیں تاکہ میت کیلئے کئے جانے والے صدقے کو وادی میں رہنے والے کیلاش اور مسلمان دونوں کھا سکے۔ شیر کانی کی موت پر وادی بریر اور وادی رمبور سے بھی کثیر تعداد میں کیلاش قبیلے کے  لوگ آئے تھے۔ رات کے وقت ان کو پنیر،لسی اور چپاتی سے تواضع کرایا گیا جبکہ دن کے وقت جب میت کو دفنایا گیا تو مہمانوں کو کھانا دیا گیا جس میں گوشت، دیسی گھی، روٹی اور روایتی طعام جوش بھی شامل تھا۔ جوش ایک حاص طعام ہے جو گوشت کے شوربے میں  آٹے کو خوب پکاکر تیار کیا جاتا ہے۔ اس میت میں تقریباً تین کنستر دیسی گھی اور پنیر بھی مہمانوں کو  پیش کیا گیا کھانے کے بعد حاص طور پر مہمانوں کو انگور سے بنی ہوئی شراب جسے دروچ اوغ کہا جاتا ہے وہ بھی پیش کیا گیا۔
میت کے دن سے تعزیت کیلئے آنے والے مہمانوں کو چائے کے ساتھ بسکٹ اور بیکر بھی پیش کیا جاتا رہا۔جس وقت میت کو قبرستان لے جایا گیا تو اس وقت جستکان میں موجود تمام کیلاش خواتین باہر جاکر بہتے ندی کی پانی سے ہاتھ دھوئے۔ اور مردحضرات نے جب آنجہانی شیرکانی کو دفنادیا جس کے ساتھ اس کی استعمال کی چیزیں بھی قبر میں رکھی گئی تو جس چارپائی میں اس کی لاش قبرستان تک لے جائے گئی تھی اس چارپائی کو بھی اس کے قبر ک اوپر الٹا رکھ کر روانہ ہوئے۔ مردوں نے بھی میت دفنانے کے بعد اسی نہر سے ہاتھ دھوئے اور پھر کھانے میں شریک ہوئے۔
ہمارے نمائندے نے حصوصی طور پر دو دنوں سے ان تمام رسومات کی کوریج کیلئے  وادی کیلاش جاکر متعلقہ لوگوں سے بات چیت بھی کرلی۔ لوک رحمت کیلاش کا کہنا ہے کہ ہم اس عقیدے سے یہ جانور ذبح کرتے ہیں تاکہ میت کے  لئے صدقہ ہو اور اس میں پرندوں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ اس کی پیدائش کا خوشی مناتے ہیں مگر کیلاش لوگ  ان کو موت کے وقت بھی انہیں خوشی خوشی رحصت کرتا ہے اور اس وقت بھی ڈھولک بجاکر محصوص رقص پیش کرتے ہوئے گیت گاتی ہیں۔
عبد الخالق کیلاش نے کہا کہ ہماری ماں بڑی عظیم خاتون تھی اس نے ہمیں چھوٹا بڑا کیا ہماری اچھی تربیت کی ہمیں اچھی تعلیم دی اور اب میرے بچے بھی سب کامیاب ہیں  ایک بیٹا قومی احتساب بیورو میں بھی افسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ماں کی کمی کو محسوس کرتا رہوں گا اور اسے ہمیشہ یاد کرتا رہوں گا۔ آنجہانی شیرکانی کی موت پر  کثیر تعداد میں تینوں وادیوں سے مہمان تعزیت کیلئے آئے تھے اور یہ سلسلہ مزید کئی دنوں تک جاری رہے گا

Labels: , , , , ,

ناصر آباد کے مابل اور لیز کو کسی مائی کے لال کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے


ہنزہ : پھسو ٹائمز اُردُو : نمائندہ خصوصی :- عمائدین ناصر آباد نے کہا ہے کہ ناصر آباد (ہنی قدیمی نام)نے کہا ہے کہ صدیوں سے ہم اس گاوں میں آباد ہیں،ہمارے اجداد نے اس زمین اور علاقہ کی دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں اور اب ہم کسی بنیاد پر کسی اور کو مفت میں یہ وسائل قربان کریں گے۔ہمارے پاس 1989تھول داس سے ہکاچر تک 640ایکڑپر مشتمل لیز قانونی اور تمام تر کاغذی کارروائی اور ڈاکومنٹیشن کے بعد ہمارے نام یعنی الناصر سوسائٹی کے نام ہے جس پر محکمہ معدنیات کے چند افیسران غیر مقامی سرمایہ داروں سے ملی بھگت کرکے ہمارے لیز پر اور لیپ کیا ہوا ہے۔جبکہ ہم نے 1989سے 2004تک اس لیز پر باقائدہ کام بھی ہے اور ایک نجی کمپنی اور گلگت میں بیٹھے ہوئے معدنیات کے آفیسران کی نجی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ہمارے نکالے گئے ماربل کو مارکیٹ تک پہنچانے نہیں دیا جارہا ہے۔ صدر الناصر سوسائٹی نعمت شاہ،اعلیٰ نمبردار اسلام،نمبر دار نسیم اللہ،مبارک شاہ،شیر بازاور نمبر اکبر حسین و دیگر عمائدین ناصر آباد شناکی نے  اتوار کے روز مابل لیز کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات اور حکومتی و دیگر اداروں کی بدنیتی اور غیر قانونی اقدامات کے باعث ناصر آباد کے عوام مالی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، ہمارا ساری ساری جمع پونجی ماربل مائن تک سڑک بنانے اور مشنری وغیرہ لانے پر سرف ہوئی ہے اور ہم نے تین مختلف مقامات سے مائن تک سڑکیں بنائی ہیں جس پر کمپنسیشن سمیت 22کروڈ سے زیادہ کے اخراجات ہوئے ہیں۔ سرکار اور محکمہ معدنیات کی جانب سے اس پر ایک پیسہ تک خرچ نہیں ہوا ہے جو بھی کیا ہے عوام نے الناصر سوسائٹی کے ذریعے یہ سب کیا ہوا ہے ۔نمبردار اعجاج عالم نے کہا کہ گلگت بلتستان کسی کی باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ہمارے اباو اجداد کی جاگیر ہے، ہماری کئی نسلیں یہاں مدفون ہوئے ہیں، میں گلگت بلتستان کی حکومت اور پاکستانی ریاست سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخون لے لیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہاں تصادم کی طرف لے کر جائے،اگر ہماری ایک بھی جان بھی زندہ بچے گی تو ان وسائل پر قبضہ کبھی ہونے نہیں دے گی۔ہم اس ناصر آباد کے مابل اور لیز کو کسی مائی کے لال کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے، میں مہمند دادااور ان کے ذمہ داروں کو وارن کرنا چاہتا ہوں کہ ان وسائل کے بنیاد پر فرقہ وارانہ کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کریں اس کے نتائج انتہائی بیانک نکلیں گے۔ہم گلگت بلتستان کے عوام کو اپیل کرتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کے بھائی ایک ہیں،اس لئے اس غیرقانونی عمل کو روکنے کیلئے ہمارے ساتھ بھائی بن کر کھڑے ہوجائیں کیوں کہ یہ آج ناصر آباد کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے تو کل یہ مسائل دیگر بہت سے علاقوں کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں

ہ علاقائی نفرتوں اور سول سوسائٹی میں عوام کی فلاح و بہبود میں غازیان دیامر اہم کردار ادا کرے گی

چلاس : پھسو ٹائمز اردو : محمد علی خان :-  غازیان دیامر کی ایک اہم


میٹنگ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر چلاس میں زیر صدارت عبدالمالک قریشی ، صدر غازیان دیامر منعقد ہوئی جس میں حوالدار ریٹائرڈ سرور کو کوآرڈینیٹر دیامر نامزد کیا گیا اور غازیان گلگت بلتستان کی یکجہتی اور استحکام پاکستان کی بات ہوئی۔  غازیان دیامر نے اتحاد و اتفاق کو تقویت دینے پر زور دی اس امید سے کہ علاقائی نفرتوں اور سول سوسائٹی میں عوام کی فلاح و بہبود میں غازیان دیامر اہم کردار ادا کرے گی۔ اور شرکاء میں سے سیکریٹری فنانس دیامر صوبیدار صدور خان ،  کوآرڈینیٹر دیامر سرور اور صدر کھنر یونین حوالدار فضل الرحمن  و دیگر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غازیان دیامر  نے ملک و ملت ریاست پاکستان کی دفاع میں پہلے بھی کمی نہیں چھوڑی اور آئیندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ صدر غازیان دیامر کا کہنا ہے کہ غازیان دیامر ریاست اور ریاستی اداروں سے مل کر علاقے کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرے گی اور شہداء کے لواحقین اور غازیان کی فلاح و بہبود میں ہر ممکن جدو جہد جاری رکھے گی۔ اور میٹنگ میں غازیان دیامر نے حکومت سے گلگت میں آتشزدگی میں جلنے والی داریل کی غازی کی گاڑی کی بھی کمپنسیشن کی اپیل کی۔ اور آخر میں پاک آرمی ، ریاست پاکستان اور غازیان گلگت بلتستان کے استحکام کے لئے دعا کی گئی۔

جاری کردہ ۔ سیکریٹری انف

Saturday, February 19, 2022

خودکشی کی وجوہات اور ہمارے نوجوان نسل : تحریر:- سلیم جمیل | پھسو ٹائمز اُردُو


خودکشی کی وجوہات اور ہمارے نوجوان نسل : تحریر:- سلیم جمیل | پھسو ٹائمز اُردُو  

خودکشی ایک ایسا آلودہ جرم ہے جو ایک بے بس تھکا انسان اپنے ساتھ انتہائی مجبوراً کرتا ہے کیونکہ وہ بہت تھک چکا ہوتا ہے کسی نا کسی مجبوری  ،مسائل، طنز افلاس ،تنگ دستی ،بے بسی ،نانگ معاشرے کی کڑا ترشی ،عیب تراشی ،نکتہ چینی ،بے ایمانی ،بد ہواسی ،نا انصافی اور حکومت کی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے....!! خودکشی  کسی نہ کسی غیرمخلوط روائے کا نتائج ہوتی ہے خودکشی کرنے والے کا کوئی نہ کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے جو اُس کی زندگی کے دائرے کو اس حد تک تنگ کرتا ہے جو خودکشی کے شکل اُڑھ کر سامنے آجاتا ہے

پہلے بنتے  لوگ موت کے کارن

پھر  لوگ  برسیاں  مناتے ہیں 

کسی معاشرے میں خودکشی وہ داغ ہے جو اُس معاشرے کے روایے اور اُس کی حقیقت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اُسی کی عکاسی کرتا ہے آج کل ہم شوشئل میڈیا پہ روزمرہ ایک نہ ایک اس غیر سنجیدہ اور لاشعور موت کی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے ہیں مگر.........!!

کبھی سوچا کہ آخر ہمارے معاشرہ بلخصوص ہمارے نوجوان نسل ایسے وبا اور جرم کیوں کرتے ہیں....؟؟؟ 

کیا خودکشی کرنے والا مجرم ہے یا اس کے پیچھے چھپا ہوا قاتل مجرم ہیں کبھی کسی نے سوچا ایسا کیوں....؟؟؟

ہم مثبت اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کرتے آخر کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان نسل خودکشی کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں.......!

ایک رائٹر میں جہاں تک اپنی تحقیق اور تجربے کی حد تک وجوہات اور اسباب بتانا  چاہتا ہوں  جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان نسل اس جرم کا شکار ہیں..........!

(طنز عیب تراشی)

کبھی کبھی انسان کو چھوٹی سی غلطی پہ 

راستہ دار احباب دوست یا فیملی ممبرز اور معاشرہ اس حد تک طنز، عیب ترشی الزامات ،غلط بیانیاں ،جھوٹی تہمت کیڑا ،ترشی لگا دیتے ہیں جس سے انسان بہت محدود اور لاشعوریات کے اس درجے تک پہنچ جاتا ہے کہ اُس کو دنیا بلکل بے معنی اور لاوارث نظر آتی ہے خودکشی میرے خیال میں پھر اُن کی نظر میں حلال ہوجاتی ہے.....!

یعنی

تنگ آمد تو جنگ آمد

(معاشرے پہ عدم اعتماد اور ناانصافی)

 

جب کسی معاشرے کے اندر انصاف ٹکوں پہ بھیک جائے کسی انسان کی حق تلفی ہوجائے پھر اسکو دردر کی ٹھوکرے مارے جائے پھر ناانصافی میں اس حد تک ڈھیکیلا جائے کہ اپنے معاشرے کے حکموں اور عدالتوں سے مکمل اعتماد اُٹھ جائے تو دنیا اور معاشرے سے تنگ آجاتا ہے جو کے  ڈپریشن ،ذہنی ٹارچر ،لمیمٹڈ سوچ ،نیورو مینڈ، یا سیکو کا شکار ہوجاتا ہے ڈپریشن اور لمیٹڈ سوچ موت کی طرف لے جاتی ہے

( ناکامی کا خوف )

نا کامی کا خوف بھی خودکشی کی وجہ بنتا ہے جس انسان کے اندر خوف پیدا ہو جاتا ہے وہ مسکرانا چھوڑ دیتا ہے وہ  بزدل ہو جاتا ہے اس انسان سے اگر کوئی غلطی ہو جائے وہ تو کانپنے لگتا ہے بعد دفعہ اپنے اس ناکامی کے خوف کی وجہ سے خود کو ختم بھی کر لیتا ہے 

                         (  بوجھ  )

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ایک بیماری لگی ہوتی ہے وہ بیماری کون سی ہے وہ ہے دوستوں بوجھ وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ وہ گھر والوں پہ بوجھ ہیں خاص طور پر یہ بیماری مریض اور معزور افراد میں ہوتی ہے وہ اسی مایوس کی وجہ سے خود کو ختم کر لیتے ہیں

                       (  افسردگی  )

افسردگی اور بدقسمتی کی شکایت سب سے زیادہ خودکشی کی وجہ بنتی ہے افسردگی کی سب سے ہم وجہ

                ( مستقبل سے مایوسی )

افسردہ لوگ میں ایک خامی یہ بھی ہوتی ہے وہ ناکامی کو برادشت نہیں کرتے اگر وہ حال میں تھوڑے بہت ناکام جاتے ہیں تو مستقبل پر بھی ناکامی کی مہر لگا دیتے ہیں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے وہ اس افسردگی کو  مارتے نہیں ہیں وہ اپنے اندر زندہ ہی رکھتے ہیں وہی افسردگی ایک دن انسان کو خود کو ختم کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے

                  ( نفسیاتی حالت  )

بہت سے لوگ بڑے نازک ہوتے ہیں ہمشیہ ان کے چہرے پہ مسکراہٹ ہی نظر آتی لیکن جب وہ عشقِ وغیرہ کے چکر میں پڑے نظر آتے ہیں تو وہ خود ایک نفسیاتی مریض بنا لیتے ہیں جب انہیں ناکامی ہوتی ہے وہ جو ان کے چہرے پہ مسکراہٹ ہوتی ہے وہ چلی جاتی ہے وہ بالکل ہی خاموش نظر آتے ہیں پھر وہ نہ تو کسی سے بات کرتے ہیں بعد دفعہ یہ حالت ان کو پاگل بنا دیتی ہے وہ اس ناکامی کا برداشت نہیں کر پاتے اور خود کو موت کے حوالے کر دیتے ہیں

(منشیات کا عادی)

ہمارے اردگرد بہت سارے نوجوان منشیات جیسے موذی نشے کے عادی ہے 

 منشیات اور ادویات کا غلط استعمال. ہر نشہ آور چیز آپ کے جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چرس، کریک،. کوکین، ہیروئن، ایکسٹیسی، میتھ 

جو نہ ملنے کے صورت میں ذہنی دباو کا شکار ہوجاتے ہیں یہ انہیں موت کے منہ میں ڈھکیل دیتے ہیں

                            

(  تنہائی )

انسان کو تنہائی بھی مایوسی کی طرف لے جاتی ہے بیٹھا بیٹھا پتہ نہیں کس خلا میں چلا جاتا ہے خود ہی مستقبل کے فیصلے کر رہا ہوتا ہے جب اس فیصلہ میں ناکامی نظر آتی ہے تو اپنے آپ کو دنیا کا بدنصیب انسان سمجھ لیتا ہے

( کنٹرول اور حل)

میرے قلم میری سوچ میرا تخیول میرا تجربہ میری تحقیق کے مطابق نوجوان نسل کو سب سے زیادہ مصروف رہنا بہت ضروری ہے پھر بلند حوصلہ تیغ شکن محنت لگن احساس زمہ داری معاشرے کے مثبت چہرے جذبہ حالت سے لڑنے کا عزم ہمت ہوشیار بلند بلا سوچ تخیل وسیع کسی کا عزم کسی کا سہارا حالت کے مقابلہ معاشرے کو فص ہنرمند  مایوسی سے بلاتر  مثبت سوچ نمازی کم سوچ سے بلاتر رہنا انتہائی ضروری ہے

Friday, February 18, 2022

سرمایہ داروں کا ششکٹ کے متاثرین کے واحد کشتیوں کے کاروبار پر قبضہ کرنے کی کوشش غیر قانونی اقدام ہے


گوجال : پھسو ٹائمز اُردُو : رحیم گوجالی :-  سرمایہ داروں کا ششکٹ کے متاثرین کے واحد کشتیوں کے کاروبار پر قبضہ کرنے کی کوشش غیر قانونی اقدام ہے۔عمائدین و نوجوانان ششکٹ گوجال 


ہنزہ گوجال کے عمائدین و نوجوانان ششکٹ گوجال ہنزہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غیر مقامی سرمایہ داروں کا ششکٹ کے متاثرین کے واحد کشتیوں کے کاروبار پر قبضہ کرنے کی کوشش غیر قانونی اقدام ہے۔عطا آباد جھیل متاثرین کا واحد ذریعہ معاش ششکٹ بوٹنگ سروس ہے جس پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کو ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مقامی افرادخاص کر متاثرین عطاآباد جھیل نے متحد ہو کر بغیر کسی مالی تعاون کے اپنے بل بوتے مختلف بینکوں سے قرض لے کر اپنا روزی روٹی کمارہے ہیں اورعطا آباد جھیل پر ششکٹ کے مقامی افراد کی خوشحالی ششکٹ بوٹنگ سروس دن رات کام کررہی ہے۔ آج کچھ غیر مقامی افراد نے ششکٹ کے حدود میں کشتیان لا کر جھیل میں ڈالنے کی کوشش کی ہے جوکہ مقامی افراد کیساتھ زیادتی اور نا انصافی ہے۔ 

ہم سول سوسائٹی نمبر داران اور یوتھ سے اپیل کرتے ہیں اس طرح کے ہتھکنڈوں کیخلاف اپنی آواز بلند کرے ورنہ کل کو یہ سرمایہ دار ہمارے دوسرے تنصیبات پر بھی قبضہ کریں گے۔  اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوئے ہیں اور عوام نے ہمیشہ مقابلہ کیا ہے عوام متحد ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھائے تو کوئی بھی غیر مقامی اس طرح کی حرکت نہیں کرسکتا۔ عوامی اراضی پر صرف مقامی باشندوں کا حق ہے کسی بھی غیر مقامی کا باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ آج ششکٹ کے عوام نے اس غیر مقامی سے ملنے کی کوشش کی اور اپنے اعترضات پیش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بدماشی پر اتر آیا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں۔ 

کسی بھی علاقے کے مقامی افراد ہی سب سے اہم سٹیک ہولڈرز ہوتے ہے۔ بغیر مقامی افراد کو اعتماد میں کئے یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اپنے اثرورسوخ استعمال کرکے عوامی جگہوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔ 

اور ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ ہنزہ کی قوم اور بالخصوص گوجال کی قوم اس طرح کے لوگوں سے نمٹنا بہت بہتر جانتے ہیں 

ہم وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید صاحب چیف سیکریٹری گلگت بلتستان فورس کمانڈر گلگت بلتستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کی فوراً اس عمل کو روکا جائے بصورت دیگر عوام بھر پور احتجاج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔عمائدین و نوجوانان ششکٹ گوجال ہنزہ  نے اس سلسلے میں اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور ہر ممکن اسے روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اس طرح کے ناانصافیوں کا رد عمل 54 میگاواٹ ہائیڈر پاور پراجیکٹ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے

خالد خورشید نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔


وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے جی بی کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے،

 18 رکنی کمیٹی میں صوبائی وزراء سمیت حکومتی افسران بھی شامل ہیں۔

کمیٹی میں اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی امجد زیدی، ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد شامل ہونگے، 18 رکنی کمیٹی گلگت بلتستان کے معاشی معاملات سمیت سیاسی اثرات کا جائزہ لےاس کے علاوہ کمیٹی عبوری صوبہ بننے کے گلگت بلتستان کو دی جانیوالی مراعات اور چھوٹ کا جائزہ لے گی، کمیٹی اداروں کے استعداد اور دائرہ اختیار کا بھی جائزہ لے گی

Thursday, February 17, 2022

گلگت بلتستان کیلئے 5ارب کے اضافی گرانٹ کی فراہمی اور مختلف محکموں میں آسامیوں کی تخلیق کے حوالے سے پیش رفت


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:-  وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالدخورشید اور وفاقی سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ کے مابین اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر حکومت گلگت بلتستان کیلئے 5ارب کے اضافی گرانٹ کی فراہمی اور مختلف محکموں کی استعداد کار میں اضافے اور سٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے ضروری آسامیوں کی تخلیق کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ۔ ملاقات میں صوبے کے تمام اضلاع میں ریونیو کے محکمے کو مکمل فعال بنانے کیلئے درکا آسامیوں کی تخلیق سیکریٹریٹ، اینٹی کرپشن سیل، محکمہ صحت اور محکمہ برقیات میں درکار تقریباً ایک ہزار ضروری آسامیاں تخلیق کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالدخورشید کو یقین دہانی کرائی کہ نئے آسامیوں کی تخلیق اور اضافی گرانٹ کی فراہمی کیلئے فوری طورپر اقدامات کئے جائیں گے ۔


جی بی کے 10ہزار ملازمین کی اپ گریڈیشن کیس کی پیروی کرتے ہوئے اسلام آباد فنانس میں فنانشل کانکریس کیس جمع

 


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:-  واٹر اینڈ پاور اینڈ ورکس گرینڈ الائنس نے جی بی کے 10ہزار ملازمین کی اپ گریڈیشن کیس کی پیروی کرتے ہوئے اسلام آباد فنانس میں فنانشل کانکریس کیس جمع کرادیا۔ ترجمان گرینڈ الائنس واٹر اینڈ پاور  کے مطابق سابق  دور حکومت میں کابینہ سے باقاعدہ منظوری کے باوجود اب تک ملازمین کی اپ گریڈیشن نہ ہو سکی۔ 10ہزار ملازمین اب تک اپ گریڈیشن کے انتظار میں ہیں واضح رہے کہ ملازمین کےی اپ گریڈیشن میں 16کروڑ روپے سالانہ درکار ہیں مختلف محکمہ جات کے ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے سابقہ دور حکومت میں کابینہ سے منظوری کے باجود 10 ہزار ملازمین تاحال اگلے سکیل میں ترقی نہ ہوسکی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے میں گلگت بلتستان کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوۓ واٹر اینڈ پاور ورکس  گرینڈ الائنس نے 10ہزار ملازمین کی اپ گریڈیشن کا کیس چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کروایا اور احتجاج سے پہلے ہی گورنمنٹ نے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 10ہزار جی بی کے ملازمین کے کیس کو منسٹری فنانس میں بھیجا گیا اور امید ہے چند دنوں میں جی بی کے 10ہزار ملازمین کی اپ گریڈیشن ہوگی

Wednesday, February 16, 2022

دریاء کے کنارے سے پہاڑ کی چوٹی تک تقریباً 10ہزار مربعہ میل وہاں کے مقامی عوام کی ہزاروں سال سے ملکیت ہے، آصف سخی


 کراچی : پھسو ٹائمز اُردُو : (نامہ نگار) :-  سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی آصف سخی نے کہا ہے کہ ہم ہنزہ کو مری بنیں نہیں دیں گے،کسی نے ہنزہ کے نوجوانوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، ہنزہ کا ایک ایک انچ زمین دریاء کے کنارے سے پہاڑ کی چوٹی تک تقریباً 10ہزار مربعہ میل وہاں کے مقامی عوام کی ہزاروں سال سے ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو ریاست اور اس کے ادارے ہنزہ کے نونوانوں کو روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور دوسری طرف غیر مقامی سرمایہ داروں کو ریاست اور حکومت کی پشت پناہی کے ذریعے ہمارے وسائل پر قابض کروانے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عوامی ورکرز پارٹی عوام ہنزہ کو لے کر شاہرہ قراقرم (سی پیک روٹ) پر نہ ختم ہونے والے دھرنا شروع کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ششکٹ کے عمائدین اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر انتظامیہ اور ادارے بعض نہیں آئے تو حالات کے ذمہ دار انتظامیہ اور اداروں پر ہوگا۔ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا جی بی کے لوگوں کو زمینیں نہ بیچنے کا تلقین کرتا ہے اور دوسری طرف ہمارے وسائل پر قبضہ کرانے کی کوشش سمجھ سے بالاتر ہے۔ نوجوانان ہنزہ کو اپنے دھرتی ماں کی تحفظ کیلئے ایک ہو کر تحریک چلانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ہمارے آنے والے نسل برباد ہوجائے گی اور ہم اپنے کی گھر پہ پرائے ہو کر رہ جائیں گے

مشہور و معروف سماجی و مذہبی شخصیت عالجاہ الماس خان ہنزہ کے ان شخصیات میں شامل ہوگئے جنہوں نے زندگی کے 100 بہاریں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا


احمد آباد، ہنزہ : پھسو ٹائمز اُردُو : نمائندہ خصوصی :-  مشہور و معروف سماجی و مذہبی شخصیت عالجاہ الماس خان ہنزہ کے ان شخصیات میں شامل ہوگئے جنہوں نے زندگی کے 100 بہاریں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آبائی گاوں احمد آباد ہنزہ اے ایف سی سنٹر میں  صد سالہ سالگرہ پر شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں گاوں کے بزرگ مرد و خواتین عزیز و عقاریب نے بڑی تعداد میں شرکت کی. 

‎100 سالہ بزرگ الماس خان 1922 میں احمد آباد ہنزہ میں پیدا ہوئے۔  بحثیت سپاہی پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد احمد آباد کی تعلیم و ترقی اور خوشحال میں اہم کردار ادا کیا ان کی جذبہ خدمت اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں ہزہائنس پرنس کریم آغاخان نے عالیجاہ کا لقب سے نوازہ ۔ عالیجاہ الماس خان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کے دو  درجن سے زائد پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں ہیں 

واضح رہے کہ احمد آباد ہنزہ کا وہ گاوں ہے جو آج تک شاہراہ قراقرم سے کٹا ہوا ہے یہاں خواندگی کی شرح زیادہ ہے اور 1983 کے بعد دہی اشتراکی تنظیمات میں سے اول نمبر پر ہے اور پاکستان کا یہ واحد گاوں ہے جہاں  سے بجلی حکومت کو نجی سطح پر فراہم کی جاتی ہے۔



گلگت ایئر پورٹ سے ملحقہ زمینوں کی خریداری کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ سطح پر سول ایوی ایشن سے رابطہ


گلگت : پھسو ٹائمز اردُو : پریس ریلیز :- وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 16واں اجلاس منعقد ہوا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اشیاء خوردنوش کی قیمتوں کو یقینی بنانے کےلئے ضلعی انتظامیہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنائیں ۔ منشیات کےخلاف جاری کریک ڈاءون کو سراہتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ منشیات اور جوئے کے اڈوں کےخلاف زیرو ٹارلنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائیں ۔ صحت کے شعبے کی بہتری حکومتی ترجیحات میں شامل ہے ۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کو ترجیحی بنیادوں پر فعال بنایا جارہا ہے ۔ بہت جلد گلگت، سکردو اور چلاس کے ہسپتالوں میں پی جی شپ او رہاءوس جاب شروع کیا جائے گا ۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گلگت ایئر پورٹ سے ملحقہ زمینوں کی خریداری کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ سطح پر سول ایوی ایشن سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ ملحقہ علاقوں کے زمینوں کو خریدا جائے ،تاخیر کی صورت میں صوبائی حکومت اس حوالے سے مثبت فیصلہ کرے گی ۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2021پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی ۔ خصوصی افراد کو وہیل چیئرز کی فراہمی کےلئے صوبائی حکومت اور الخدمت فاءونڈیشن کے مابین معاہدے کی بھی منظوری دی گئی ۔ کابینہ اجلاس میں سینئر سٹیزن ویلفیئر بل 2021کی بھی منظوری دی گئی ۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں لوکل گورنمنٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت فنڈ زکی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں گلگت دنیور چائنہ یادگار کے مقام پر پاک چائنہ میموریل ہال کی تعمیر کےلئے زمین کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی ۔ گلگت بلتستان پاور جنریشن پالیسی کی سفارشات کو حتمی شکل دے کر منظوری کےلئے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ۔ کابینہ اجلاس میں اساتذہ کی استعداد کار میں اضافے کےلئے محکمہ تعلیم اور امریکن بورڈ کے مابین معاہدے کی بھی منظوری دی گئی ۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں لوکل کونسل سروسز رول 2021 اور دبئی ایکسپو 2020 میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی ۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ایفاد ای ٹی آئی کے تحت آباد جگہوں کی لینڈ ٹائیٹلنگ اور ایم او یو کی منظوری دی گئی جس کےلئے ایس ایم بی آر کو صوبائی کمشنر مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت زمین ڈیجٹیلائزیشن کےلئے ای ٹی آئی فنڈز ٹرانسفر کرے گا ۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں نمبرداری رولز اور زمین حصول اراضی کے قوانین کی بھی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے خصوصی اقدام کے تحت گلگت بلتستان کے مزید32ڈاکٹروں کی ایف سی پی ایس اور4ڈاکٹروں کی ایم سی پی ایس کےلئے منظوری دی گئی ۔ گلگت میڈیکل کالج میں پرنسپل کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی.

معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ الیاس صدیقی نے جو اپنا موقف دیا اس کی ہم بھر پور مذمت اورمسترد کرتے ہیں

 


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : نمائندہ خصوصی :- عمائدین ناصر آباد ہنزہ صدر الناصر سوسائٹی نعمت شاہ،اعلیٰ نمبردار اسلام،نمبر دار نسیم اللہ،مبارک شاہ،شیر بازاور نمبر اکبر حسین نے گلگت میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ الناصر سوسائٹی یا عمائدین ناصر آباد 1989سے ماربل کا لیز لے کر کام کررہی ہے جبکہ سرکار نے غیر قانونی طور پر کسی نجی کمپنی سے ملی بھگت کرکے ہمارے لیز پر اور لیپ کرکے اسی نجی کمپنی کو دینے کی کوشش کی ہے جس کے خلاف ہم نے کہیں بارمختلف فورمز پر درخواتیں دیتے رہے لیکن سرکارنے ہماری ایک درخواست پر بھی عمل درآمد کرنے یا اس پہ انکوائری کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ دوسری جانب کسی نجی کمپنی کے کہنے پر تین بار انکوائریاں کی ہے جس پر ایک رپورٹ منظر عام پہ لانے کے علاوہ کوئی رپورٹ پبلک نہیں کیا گیا ہے۔ہمارے احتجاج پر پہلی بار حکومت نے ہمارا موقف سنا جبکہ گزشتہ روز معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ الیاس صدیقی نے جو اپنا موقف دیا اس کی ہم بھر پور مذمت اورمسترد کرتے ہیں اور انہوں نے ہمارا موقف سنے بغیر بات کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مائن پر مقامی لوگ ایک عرصہ سے کام کررہے ہیں اور تین ہزار ٹن تک کا خام مال قراقرم ہائے وے پر پہنچایا گیا ہے جس حکومت کی جانب سے راہ داری نہیں ملنے کی وجہ سے مارکیٹ تک پہچایا نہیں سکے ہیں۔ہم سیکریٹری منرلز آصف اللہ کے رویہ اور اس پر احتجاج کو لے کر چند منافرت پسند اور فرقہ واریات پسند لوگ اس کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں جسے کا ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں اور ہم نے وزیر اعلیٰ، ڈپٹی سپیکر و دیگر وزراء کی یقین دہانی پر احتجاج کو چند دن کیلئے موخر کیا ہے۔حکومت نے نجی کمپنی کے کہنے پر 2014میں ایک من گھڑت نقشہ کے ذریعے ہماری لیز کو لے جاکر ہکوشر نامی پہاڑ پر دیکھایا گیا ہے جو ناصر آباد کے بجائے مرتضیٰ آباد میں ہے حالانہ ناصر آباد والوں کو کیا معلوم نہیں تھا کہ ماربل کس جگہ موجود ہے۔الناصر سوسائٹی پورے ناصر آباد کے عوام کا نمائندہ تنظیم ہے جس میں ناصر آباد کے تمام گھرانوں کا شیئر برابر ہے۔ جس انوسٹر یاسرمایہ دار کو ہم نے کہیں آپشنز دیئے لیکن انوسٹر کی جانب سے ہم ڈرانے دھمکانے اور مختلف حربوں کے ذریعے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ہمارے مصدقہ اطلاع اور ثبوتوں کے مطابق سرکار اور اس نجی کمپنی کی ملی بھگت سے اس لیز کی پانچ بار نقشہ تبدیل کردیئے گئے ہیں

محکمہ سی ایڈ ڈبلیو یعنی مواصلات نے تین کروڑ روپے کی لاگت سے ڈھای کلومیٹر ائرپورٹ روڈ نکاسی اور فٹ پات کے بغیر تعمیر کیا گیا

 چترال : پھسو ٹائمز اُردُو : گل حماد فاروقی :- چترال میں محکمہ سی ایڈ ڈبلیو یعنی مواصلات نے تین کروڑ روپے کی لاگت سے ڈھای کلومیٹر ائرپورٹ روڈ تو بنایا مگر سڑک کے کنارے نہ فٹ پاتھ ہے نہ نکاسی کا نالہ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے نالی نہ ہونے کی وجہ پہاڑوں سے آنے والا پانی سڑک کے اوپر بہنے سے یہ بہت جلد حراب ہوگا مگر کسی کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہے۔

چترال      لوئیر چترال میں محکمہ  سی اینڈ ڈبلیو یعنی کمیونیکیشین اینڈ ورکس  نے پچھلے سال  ڈھائی کلومیٹر  ائیرپورت روڈ بنایا جس پر تقریباً  ساڑھے تین کروڑ روپے کی لاگت آئی  مگر باک
مال محکمہ لاجواب سروس والے محکمہ مواصلات نے سڑک کے کنارے  پانی کی نکاسی کا نالہ  ادھورا چھوڑا ہے۔  مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  جب سڑک کے کنارے پانی کا نالہ نہ ہو تو یہ سڑک  بہت جلد حراب ہوگا
لگتاہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو  جو باکمال محکمہ لاجواب سروس کا لقب ملا ہے  وہ  اسے کسی بھی صورت میں  ہٹانے کو تیار نہیں  ہے یہی وجہ ہے کہ  کہ جہاں ہموار جگہہ تھی وہاں نالہ تو بنایا گیا  مگر پہاڑ اور پتھر  والی جگہہ ویسے ہی چھوڑا گیا۔ اس سلسلے میں جب محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنیر سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا  کہ ورک آرڈر کے مطابق  یہ سڑک  جون 2021 میں مکمل ہوچکا ہے  مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کہ بارش کی صورت میں پہاڑوں سے آنے والا پانی کہاں جائے گی۔  یہی پانی  اس سرک کی تباہی کا باعث بنے گا۔  اس سڑک میں بنایا گیا  کاز وے  بھی ہر ماہ حراب ہوتا ہے  اب یہ سڑک محکمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی  کو حوالہ ہوا ہے مگر لگتا ہے کہ کہ این ایچ اے حکام کو بھی  یہ ادھورا نالہ نظر نہیں آتا اور مال مفت دل بے رحم کے مصداق پر  کروڑوں روپے کی  لاگت سے بننے والی  یہ سڑک بہت جلد  ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر اعلے ٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سرک کے کنارے پانی کی نکاسی کا نالہ اور فٹ پاتھ تعمیر کیا جائے تاکہ یہ قومی اثاثے اتنی بے دردی سے ضایع نہ ہو۔

Wednesday, February 9, 2022

میونسپل بلڈنگ سیکشن کی شہر میں تجاوزات اورمین شاہراہوں پر بلڈنگ مٹیرئیل رکھنے پر زبردست کاروائی

 


گلگت (پ ر) میونسپل بلڈنگ سیکشن کی شہر میں تجاوزات اورمین شاہراہوں پر بلڈنگ مٹیرئیل رکھنے پر زبردست کاروائی ، جوٹیال اور یادگار ایریاز کے مختلف جگہوں سے تعمیراتی مٹیرئیل ہٹادئے ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روزایڈ منسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ امیر تیمور اور بلدیہ چیف کوآرپویشن آفیسر عابد حسین میرکے خصوصی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے میونسپل بلڈنگ انسپکٹرز خادم حسین اور محمد سعیدنے اپنے اپنے سیکٹرز میں بلدیہ این او سی کے بغیر نجی و کمرشل تعمیرات کرنے والے متعدد مالکان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تعمیراتی کام بند کرادئے اور تعمیرات کی غرض لائے جانے والے تعمیراتی مٹیرئیل کو مین شاہراہ سے ہتادیئے ۔ موقع پر مالکان کو ادارے کی جانب سے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ایڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کے اجازت کے بغیر تعمیراتی کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے جب تک ادارے کی جانب سے  نہیں لایا جاتا کام بند رہے گا ایک ہفتے کے اندر تعمیرات کیلئے اجازت نامہ نہ لانے کی صورت میں تعمیراتی مٹیرئیل بحق سر کار ضبط کردیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ گلگت امیر تیمور نے شہری حدود یں کمرشل ا اور نجی تعمیرات کیلئے بلدیہ عظمیٰ بلڈنگ سیکشن کی اجازت نامہ لازمی قرار دیا ہے بدھ کے روز بلڈنگ انسپکٹرزکے جانب سے کریک ڈاون اس سلسلے کی کڑی ہے

سابقہ کسٹم کلکٹر جانگیرخان مختصر علالت کے بعد گزشتہ رات شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں وفات پا گئے

 


چلاس : پھسو ٹائمز اُردُو : رپورٹ محمد علی خان :-  سابقہ کسٹم کلکٹر جانگیرخان مختصر علالت کے بعد گزشتہ رات شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں وفات پا گئے ہیں ان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع دیامر سے تھا مرحوم 1942 میں رونی میں پیدا ہوئے  پرائمری تک  تعلیم رونی میں حاصل کی  اور 1960 میں گورنمنٹ ہائی سکول گلگت سے میٹرک پاس کرکے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے ایف اے  بی اے اور ہسٹری میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی انہوں نے 1970 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم  گروپ جائن کیااور کلیکٹر کے عہدے تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ وہ برطانیہ میں پاکستان کی جانب سے بزنس ایڈوائزر بھی رہے ہے محروم 2002 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے مرحوم جانگیر خان گلگت کے معروف کردار خستہ گل اور محمد گل کاکا کے بھانجے اور ڈاکٹر اعجاز تحسین کے خالہ زاد بھائی تھے مرحوم کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا اور بیوہ شامل ہیں مرحوم کی نماز جنازہ بدھ کے روز H=11 قبرستان اسلام آباد میں ادا کی گئی اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

وفاقی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور اسپیشل انیشیٹیو کے مانیٹرنگ ٹیم کے افسران نے دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کے مین ڈیم سائٹ کا دورہِ کیا۔


  چلاس : پھسو ٹائمز اُردو : پریس ریلیز :- وفاقی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور اسپیشل انیشیٹیو کے مانیٹرنگ ٹیم کے افسران نے دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کے مین ڈیم سائٹ کا دورہِ کیا۔ 

خصوصی مانیٹرنگ ٹیم نے مین ڈیم سائٹ، پاؤر ان ٹیک، آؤٹ لیٹ، ڈائی ورژن ٹنل، ڈائی ورژن کینال، رائٹ ایبٹمنٹ، بیچنگ و کرشنگ پلانٹس،پرمننٹ بریج ، لیبارٹری اور آر کے کے ایچ پرجاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر واپڈا اور کنسلٹنس کے انجنیئرز نے تعمیراتی پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی۔ پلاننگ کمیشن کے افسران نے کنٹریکٹرز پاؤر چائنہ اور ایف ڈبلیو او کے کیمپوں کا دورہِ کیا جہاں انھیں مختلف سائٹس پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ 

اس سے قبل پلاننگ کمیشن کے افسران کو دیامربھاشاڈیم کنسلٹنٹس گروپ آفس میں پروجیکٹ میں پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پلاننگ کمیشن کے خصوصی مانیٹرنگ ٹیم میں انجنیئر جبران عمر اور انجنیئر کاشف علی قریشی شامل ہیں دورے کے موقع پر واپڈا کے چیف انجینئر ڈائی ورژن ورکس ڈاکٹر خاور منیر اور چیف انجینئر کوالٹی کنٹرول فخر جہاں واپڈا اور کنسلٹنٹس کے انجنیئرز بھی موجود تھے

Tuesday, February 8, 2022

اپر چترال میں سرمائی کھیلوں کے ٹورنمنٹ کا افتتاح ہوا۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے ٹورنمنٹ کا افتتاح کیا


 اپر چترال(گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال میں قاقلشٹ کے برف پوش وسیع میدان میں  دو روزہ سرمائی کھیلوں کا ٹورنمنٹ کا آغاز کردیا گیا۔  کمشنر ملاکنڈ  ڈویژن سید ظہیر الاسلام  اور وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کے اقلیتی امور پر معاون حصوصی وزیر زادہ کیلاش نے  فیتہ کاٹ کر  اس ٹورنمنٹ کا افتتاح کیا۔ دو روزہ ونٹر سپورٹس ٹورنمنٹ میں سنو سکینگ، سنو بورڈنگ اور پیرا گلایڈنگ کے مقابلے ہورہے ہیں۔ اس ٹورنمنٹ کو دیکھنے کیلئے آنے والے چند خواتین نے بتایا کہ موسم سرما میں جہاں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہتے ہیں تو اس قسم کے کھیل ان کو اس بوریت سے نکال کر تازہ دم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کیلئے بھی اس قسم کے ٹورنمنٹ کا اہتمام ہونا چاہئے تاکہ ان کو بھی چند لمحوں کیلئے محظوظ ہونے کے مواقع ملے۔

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے بتایا کہ یہاں کا انتظامیہ  سیاحوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے میں پر حلوص ہے  اور صوبائی  و وفاقی حکومت دونوں چترال میں ترقیاتی کاموں پر اربوں روپے لگا رہے ہیں۔
معاون حصوصی وزیر زادہ کیلاش  کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت  سرمائی سیاحت کو فروغ دینے سے پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کیلئے  ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا ویژن ہے کہ سیاحت کو  ترقی دیکر ملک کو ترقی دے۔  پیراگلاینڈ کے ایک پائلٹ جو صوبیدار ریٹائرڈ ہے نے کہا کہ چترال پیراگلایڈنگ کیلئے نہایت موزوں جگہہ ہے اور ہم کئی سالوں سے اس فن کو بغیر کسی حکومتی امداد کے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اس ٹورنمنٹ میں زہادہ  تر  کھلاڑیوں  کا تعلق لوئیر چترال کے وادی مڈگلشت سے ہیں جن میں کم عمر بچے بھی بڑھ چڑھ کر  حصہ لے رہے ہیں۔ سنو سکینگ کے کھیل میں سب سے دلچسپ پہلو وہ تھا جب ایک شکاری پالتو کتا  اپنے مالک کے ساتھ ساتھ بیک وقت  برف کے میدان پر دوڑتاتھا  جب  وہ برف پر سکینگ  کر رہا تھا۔  ٹورنمنٹ  کو دیکھنے کیلئے  ضلع لوئیر چترال کے ڈپٹی کمشنر انوار لحق اور دیگر مہمانان بھی موجود تھے۔ ونٹر سپورٹس کا اہتمام ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے جسے کامیاب بنانے کیلئے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر منظور احمد آفریدی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عرفان، اسسٹنٹ کمشنر شاہ عدنان، اے ڈی لوکل گورنمنٹ مصباح الدین اورانتظامیہ کی پوری نیٹ ورک دن رات محنت کرتے ہیں۔ جبکہ چترال پولیس نے ڈی ایس پی محی الدین کی نگرانی  میں پولیس فورس اور ایلیٹ فورس نے تمام جگہہ کی تلاشی لیکر اس کی سیکورٹی کو یقنی بنایا

گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کو انصاف صحت کارڈ فراہم کردیا گیاہے، وزیر صحت حاجی گلبر خان


گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو :  پریس ریلیز  : -  گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کو انصاف صحت کارڈ فراہم کردیا گیاہے ، گلگت بلتستان خیبر پختونخوا کے بعد دوسرا صوبہ ہے جہاں تمام شہرےوں کو صحت کارڈ سہولت میسر ہے ، صحت کارڈ سہولت کے حوالے عوام کو اگا ہ کرنے کی ضرورت تا کہ اس اہم سہولت غریب عوام مستفید ہوں ان خیالات کا اظہار وزیر صحت حاجی گلبر خان نے پریس انفارمیشن سنٹر گلگت میں نئے تعینات ہونے والے سٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،

 انہوں کہا کہ عوام کو حکومتی اقدامات ،سہولیات اور ان سے مستفید ہونے کے لئے ڈیجیٹل اورسو شل میڈیا کام کی ضرورت ہے ، ڈیجیٹل میڈیا پر  عوامی خدمات کےلئے پریس و انفارمیشن  سنٹر  کا قیام خوش آئند ہے ۔

 گلگت بلتستا ن میں صحافیوں  کے استعداد کا ر کو بڑھانے کے لئے ٹرینگ  ،  سمینار ، اور سیشنز کو منعقد کرانے میں  گلگت سٹاف کابھر پور ساتھ دےنگے ۔ اس موقع پر پرےس انفارمےشن انچارچ گلگت احمد علی جان نے ادارے کی ساخت اور کاردکردگی کے حوالے سے بھی اگاہ کےا  

عوام کو میڈیا کے زریعے ایمبولینس کو راستہ دینے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی مہم چلانے کی تجویز، DG -1122

 

تصویر پھسو ٹائمز

گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:-  ہیڈ کوارٹر گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو1122میں ڈاٸریکٹر جنرل گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو1122 فداحسین سےپراٸیوٹ ایمبولینس سروسز انجمن ہلال احمر, ایدھی فاونڈیشن,الخدمت فاونڈیشن, سہارہ ویلفیر, درانی ویلفٸر ٹرسٹ, مددگار ایمبولینس سروس اور دیگر پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کے زمہ داران نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ڈی جی ریسکیو1122نے گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسز کے اغراض و مقاصد بیان کیٸےاور گلگت بلتستان میں پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسز ریسکیو1122کے تربیت یافتہ عملہ پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کے سٹاف اور ڈراٸیوروں کو ابتداٸی طبی امداد اور آگ سے بچاو کے حوالے سے تربیت فراہم کرینگے۔
پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کے ذمہ داران نے ڈی جی ریسکیو1122سے گفتگو کے دوران گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسزریسکیو1122کی مختلف حادثات میں بروقت پہنچ کر ایمرجنسی سہولیات فراہم کرنے کی تعریف کی اور پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کو درپیش مساٸل سے آگاہ کرتے ہوٸے بتایا کہ مریضوں کی منتقلی کے دوران ایمبولینس کو سڑک پر رش کے دوران جلدی گزرنے کے لیے راستہ نہیں دیا جاتا۔ اس حوالے سے ڈی جی ریسکیو1122نے عوام کو میڈیا کے زریعے ایمبولینس کو راستہ دینے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی مہم چلانے کی تجویز دی۔
ڈی جی ریسکیو1122فداحسین نے پراٸیوٹ ایمبولینس سروسز کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواٸی اور مستقبل میں مل کر عوام کو بہترین ایمبولینس سروسز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواٸی

15 فروری کو سینما بازار اور گھڑی بازار گلگت کے تمام کاروباری حضرات اتحاد چوک پر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے




گلگت : پھسو ٹائمز اُردُو : پریس ریلیز:- سینما بازاراور گھڑی بازار گلگت میں گزشتہ کئی دنوں سے محکمہ برقیات کی آنکھ مچولی جاری ۔ پورے دن میں صرف ایک گھنٹہ بجلی دی جارہی ہے ،بلکہ اکثر اوقات ایک گھنٹہ بجلی دینا بھی گنوارہ نہیں کرتے ہیں ۔ حالانکہ آس پاس کے تمام ایریے میں ہر دوگھنٹے بعد شیڈول کے مطابق بجلی دی جاتی ہے ۔ جبکہ بازار ایریا کمرشل ہونے کے باوجود جہاں دن کو مختلف دفاتر ، بنک ، الیکٹرانکس کی دکانیں ، میڈیکل سٹورز ، فوٹو اسٹیٹ اور ہوٹل وغیرہ میں بجلی کی عدم دسیتابی کے باعث کاروباری نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے تمام کاروباری حضرات ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔

 تفصیلات کے مطابق سینما بازار اور گھڑی بازار گلگت جو کہ گلگت سٹی کے مصروف ترین بازار ہےں جہاں گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ آکر دن کو بجلی کی موجودگی میں اپنا دفتری اور کاروباری اُمور انجام دیتے ہیں ۔ گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ برقیات نے بازار ایریے کے ساتھ ایک انوکھانظام شروع کیا ہے، کمرشل ایریا کو ترجیحی بنیاد پر بجلی فراہم کرنے کے بجائے پورے دن میں صرف ایک گھٹنہ بجلی دی جاتی ہے باقی 11 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جس کی وجہ سے تمام کاروباری حضرات خصوصاً بجلی سے وابستہ کاروباری افراد انتہائی پریشانی کے عالم میں مبتلاہیں ۔

 لہٰذا محکمہ برقیا ت کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی جاتی ہے کہ فوری طور پر اس اہم مسلے کی طرف توجہ دیکر بازار ایریا کو بجلی کی منصفانہ فراہمی کو ایک ہفتے کے اندر اندر یقینی بنائیں بصورت دیگر غیر قانونی لوڈشیڈنگ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں مورخہ 15 فروری  کو سینما بازار اور گھڑی بازار گلگت کے تمام کاروباری حضرات اتحاد چوک پر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ برقیات کے اعلیٰ حکام پر عائد ہوگی ۔

Monday, February 7, 2022

HUNZA | Girls Guide and Boys Scouts Unit Organised day Hike for Noble Cause


Hunza -Gojal | by Faqir Ullah Khan  

Ismaili Boys Scouts and Girls Guide Group of Chamangul-Gulmit were on hike to Hussaini, Zarabad, Khuramabad and Passu on February 7, 2022 where they went for condolences to their Late Scout’s Families at Hussaini and Passu as well.

The hike was started from Chamangul and they group members reached Hussaini where they went for condolences to  a deceased scout’s family then they reached  at Zarabad while crossing the famous Hussaini Suspension Bridge where Hussain Scouts leaders joined them for further facilitation upto Khuramabad where Passu Scouts Leaders joined the hikers to help them for crossing the longest Passu Suspension Bridge, during the trek the hikers were enjoying the sceneries and natural beauty of the surrounding areas as well.

When they reached Passu while crossing Muradabad and KKH they went to Late Ali Mohammad House for condolences to the aggrieved family members.

After that they reached at Passu Center Jamat Khana for lunch and concluding ceremony. Passu community and Civil Society leaders including Volunteers, Scouts and Guides gave warm reception to the hikers. In the short session the GSL Passu Atta-ur-Rehman introduced the visitors, Zain-ul-Abideen recited the verse from Holy Quran, and the visitors were welcomed by AKYSB Chairman Faqir Ullah Khan while a brief introduction of the Passu village was given by Vice Chairman PDO Hussain Ali. The ADSC Akhtar Karim Khwaja and GSL Mutahir Ali briefed the audiences with their aims and objectives of the hike.

GGL Chamangul presented Vote of Thanks and Kamaria Didar Ali extended Dua-e-Khair to the participants





.


چترال میں پہلی بار سرمائی کھیلوں کا ٹورنمنٹ ہورہا ہے جو اس پسماندہ حطے کی سیاحت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادار کرے گا


چترال : پھسو ٹائمز اُردُو : (گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال میں پہلی بار سرمائی کھیلوں کا ٹورنمنٹ منعقد ہورہا ہے۔ اس ٹورنمنٹ کا اہتمام ضلعی انتظامیہ نے کی ہے جس میں سنو سکینگ، سنو بورڈنگ، پیرا گلایڈنگ اور ثقافتی شوبھی شامل ہیں۔ ونٹرسپورٹس ٹورنمنٹ کے آرگنائزر اسسٹنٹ ڈائیریکٹر لوکل گورنمنٹ مصباح الدین نے اسے کامیاب بنانے کیلئے حصوصی طور پر وادی مڈگلشٹ۴ سے بھی کھلاڑی بلائے ہیں۔ضلع اپر چترال  کے وسیع میدان قاقلشٹ میں  پہلی بار  ونٹر سپورٹس یعنی سرمائی کھیلوں کا ٹورنمنٹ منعقد ہورہا ہے۔ یہ ٹورنمنٹ  فروری کے سات اور آٹھ تاریح کو جاری رہے گا۔ ونٹر سپورٹس کے آرگنائزر  اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ مصباح الدین  نے بتایا کہ اس ٹورنمنٹ میں  سنو سکینگ، سنو بورڈنگ، پیراگلایڈنگ اور کلچر شو بھی شامل ہیں۔ ضلع اپر چترال میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے مقامی بچے بھی برف میں کھیل کر موج مستیاں کرتے ہیں۔ اس برف باری پر یہاں کے بچے بھی بہت خوش ہیں  اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی کل قاقلشٹ کے میدان میں ونٹر سپورٹس میں حصہ لیں گے۔

 بونی سے تعلق رکھنے والے ایک بچہ  انعام الحق سورج  بھی سنو سکینگ کھیلنے میں قسمت آزمائی کرے گا۔
موسم سرما میں برف باری  کے دوران جہاں لوگ گھروں میں  محصور ہوکر بوریت محسوس کرتے ہیں  تو اس قسم کے کھیل ان کی خون کو گرما نے اور چند لمحوں کیلئے محظوظ کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔ ونٹر سپورٹس سے جہاں ایک طرف نوجوانوں کو اپنی اہلیت دکھانے کا موقع ملتا ہے وہاں ونٹر ٹورزم یعنی سرمائی سیاحت بھی فروغ پاتا ہے۔